تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 339
۳۳۹ انصار اللہ کا آٹھواں دور نومبر ۱۹۸۹ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء ذیلی تنظیموں میں مزید پختگی کے لئے ہر ملک میں صدارت کا نظام سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی استعدادوں اور بے پناہ قوت غور وفکر سے نوازا تھا۔حضور کو بچپن سے ہی جماعتی اور ذیلی تنظیموں میں کام کا موقع ملا۔بطور صد ر خدام الاحمدیہ مرکز یہ وصدر مجلس انصار اللہ مرکز یہ آپ نے ہر دو مجالس کی رہنمائی فرمائی۔اس دوران میں ممالک بیرون میں بھی آپ نے تنظیم کی بیداری کی کوشش فرمائی۔آپ کی خواہش تھی کہ پاکستان سے باہر کی مجالس بھی تنظیم و تربیت میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔اس ضمن میں آپ نے متعدد اقدامات بھی فرمائے۔بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو منصب خلافت پر فائز فرمایا تو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مجالس کے مسائل اور مشکلات کھل کر آپ کے سامنے آئے۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی روز افروز ترقی کا بھی تقاضہ تھا کہ بیرونی ممالک میں جماعتوں اور تنظیموں میں اپنی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔ذیلی تنظیموں کے مراکز ربوہ میں تھے اور یہ مرکز یہ کہلاتے تھے کہ وہ ساری دنیا پر نظر رکھتے تھے۔حضورانور نے محسوس فرمایا کہ بیرونی ممالک کے مسائل کی تفاصیل اور ان کے حالات سے باخبری ایک بہت بڑا کام ہے جس کے لئے مسلسل اور گہرے روابط کی ضرورت ہے۔ان مرکزی دفاتر کی غیر ممالک کے حالات اور مسائل پر نہ نظر ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔اسی طرح رابطہ اور واسطے کی کمی کی وجہ سے بھی رخنہ پیدا ہورہا ہے جو مشکلات کا باعث بنتا ہے۔سید نا حضرت خلیفۃ امسیح الرابع نے مختلف احباب ، صدر انجمن احمدیہ، تحریک جدید اور ذیلی تنظیموں کے نمائندگان کے سامنے صورتحال رکھتے ہوئے مشورہ فرمایا اور بہت لمبے غور اور دعا کے بعد ذیلی تنظیموں کے نظام میں نہایت اہم اور دور رس تبدیلی کا اعلان فرمایا۔حضور نے فیصلہ فرمایا کہ آئندہ سے تمام ممالک کی ذیلی مجالس کے اسی طرح صدران ہوں گے جس طرح پاکستان کی ذیلی مجالس کے صدران ہیں اور وہ اسی طرح براہ راست خلیفہ وقت کو اپنی آخری رپورٹیں بھجوائیں گے جس طرح پاکستان کے صدران اپنی رپورٹیں بھجواتے ہیں۔چنانچہ آئندہ سے ہر ملک میں ذیلی تنظیموں کے آخری عہدیداران اپنے اپنے ملک کے صدر ہوں گے اور جس طرح پاکستان کی ذیلی تنظیموں کے صدور براہ راست خلیفہ وقت کو جواب دہ ہوتے ہیں اور اس کے سامنے