تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 341 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 341

۳۴۱ اپنے مسائل کے تعلق میں وہ ایک ہی وجود بن گیا ہے اور اس ضمن میں وہ ایک بہت ہی دلچسپ بات یہ لکھتے ہیں کہ میں نے جب خلافت کے کاموں پر غور کیا تو مجھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ ناممکن چیز ہے، یہ نہیں ہو سکتا۔لیکن جب میں نے قریب سے دیکھا اور ملاقاتیں کیں تو مجھے پتہ لگا کہ واقعہ یہ ناممکن ممکن بنا ہوا ہے۔بہت سے احمدیوں سے میں نے سوال کیا کہ آخر یہ کیوں ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ معجزہ ہے اور خدا کی ہستی کا ثبوت ہے اور اس بات سے ہمارے یقین زندہ رہتے ہیں اور ایمان تازہ ہوتے ہیں کہ جو چیزیں دنیا کی نظر میں ناممکن ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ نے جماعت میں ممکن کر دکھائی ہیں۔تو وہ لکھتے ہیں کہ جو چیزیں ایک بیرونی نظر سے دیکھی جائیں ، لا نخیل دکھائی دیتی ہیں، ان کا حل جماعت احمدیہ کے نزدیک یہی ہے کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے جس کا جماعت سے تعلق ہے اور وہ جماعت کے لئے ناممکن کاموں کوممکن بنا تا چلا جاتا ہے۔میں ان کے اس مطالعہ سے بڑا متاثر ہوا کیونکہ میں نے کبھی کسی مستشرق کو بیرونی جائزے کے سوا گہرائی میں اُترتے نہیں دیکھا۔بڑے بڑے عالموں کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔لیکن ان کے تمام مطالعے سرسری ہوتے ہیں اور جلد سے نیچے نہیں اترتے۔اس مصنف نے حیرت انگیز ذکاوت کا ثبوت دیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر روحانیت کا کوئی مادہ ہے جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان کو اندر اترنے کی بصیرت عطا فرمائی۔بالعموم نظام جماعت کا ان کا مطالعہ درست اور قابل اعتماد ہے اور اس پہلو سے یہ کتاب نہ صرف پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے بلکہ غیر از جماعت دوستوں اور غیر مسلموں کو بھی جماعت کا تعارف کروانے کے لئے ایک بہت اچھی کتاب ہے۔جہاں تک عقائد کی تفاصیل کا تعلق ہے، جہاں تک اختلافات کا تعلق ہے۔بہت معمولی بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں انسان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ یہ اس بارہ میں نسبتاً زیادہ تفصیل سے گفتگو کر لیتے تو شائد ایک آدھ ستم بھی باقی نہ رہتا لیکن یہ چیزیں تو ہر مصنف کی کتاب میں خواہ وہ کیسا ہی گہرا محقق کیوں نہ ہو پائی جاتی ہیں۔لیکن ان کی کتاب میں سب سے کم پائی جاتی ہیں۔اس ذکر کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ جماعت احمدیہ کے ذیلی نظام پر غور کرتے ہوئے میں نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ اس کے روابط میں کچھ تبدیلی پیدا کی جائے اور اس تبدیلی کا رجحان اسی طرف سے جو میں نے بیان کیا اور جو اس مصنف نے بھی محسوس کیا کہ ہر نظام کے ہر شعبے کا ایک براہ راست واسطہ خلیفہ وقت کے ساتھ پایا جاتا ہے جو کام کے پھیلنے کے باوجود درمیان میں منقطع نہیں ہوتا اور کسی اور تعلق کا محتاج نہیں رہتا۔چنانچہ انہوں نے ایک مثال دیکھی کہ جن دنوں میں انگلستان آیا ہوا تھا، نیویارک سے ایک انجینئر پہنچے ہوئے