تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 772 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 772

۷۷۲ ہے۔محترم مولانا غلام باری سیف صاحب اسے بے شک کامیابی سے ایڈٹ فرما رہے ہیں۔ہم جو باہر ہیں ہم کو بھی اس خدمت میں حصہ لینا چاہئیے۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق بخشے۔آمین۔(۳) مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نائب صدر مجلس نے ۴ ستمبر ۱۹۸۲ء میں تحریر کیا: بفضل خدا ماہنامہ انصار اللہ میں سنجیدگی علم دوستی اور تقویٰ کے پہلو اتنے نمایاں ہیں کہ قاری خود بخودان سے متاثر ہوتا ہے۔یوں تو اس نے مختلف رنگوں میں جماعت کی بھر پور خدمت کی ہے مگر بوڑھوں کو جوان بنانے اور جوانوں کو مزید جوان بنانے میں اور انہیں خدمت دین کا جذبہ پیدا کرنے میں نمایاں حصہ لیا ہے۔اسکی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ تاجرانہ ذہنیت سے بالکل پاک ہے۔اللہ تعالیٰ اسکی افادیت کے مطابق اسکی اشاعت میں غیر معمولی برکت نازل فرمائے۔“ مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد مؤرخ احمدیت ۲۷ اکتو بر ۱۹۹۹ء کو صدر محترم کے نام اپنے تاثرات تحریر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں : ر سالہ انصار اللہ کے گذشتہ اور تازہ ایشوع کو دیکھتے ہی دل باغ باغ ہو گیا۔پُر از معلومات کا مرقع ہونے کے علاوہ انصار اللہ جیسی بین الاقوامی تنظیم کا تر جمان اپنے شاندار اور جاذب نظر سرورق اور تاریخی اور نہایت عمدہ تصاویر کے باعث ایک انقلابی دور میں داخل ہو رہا ہے۔جس پر میں آپ کو اور آپ کے توسط سے مدیر رسالہ مولانا نصر اللہ خاں صاحب ناصر اور ادارہ کے ارکان کی خدمت میں صمیم قلب سے مبارک بادعرض کرتا ہوں۔امید ہے کہ دنیا بھر کے انصار حلقوں میں یہ رسالہ اپنا مقام پہلے سے زیادہ ممتاز کرے گا اور آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا۔انشاء اللہ تعالیٰ مکرم میاں ناصر علی صاحب جھنگ ( خط محرره ۲ دسمبر ۱۹۸۲ء) تحریر فرماتے ہیں: یہ میرا محبوب رسالہ ہے اور مجھے اس سے دلی اُنس ہے۔۔۔۔فی الحقیقت بالفاظ مبارک سیدنا ( حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نور اللہ مرقدہ ) یہ رسالہ خدا کے فضل سے بڑی قابلیت کے ساتھ لکھا اور ترتیب دیا جاتا ہے اور اس کے اکثر مضامین بڑے دلچسپ اور دماغ میں جلا پیدا کرنے اور روح کو روشنی عطا کرنے میں بڑا اثر رکھتے ہیں۔“ مکرم مولانا عطاء المجیب را شد صاحب امام بیت الفضل لندن نے ۴ نومبر ۱۹۹۸ء کو ایڈیٹر کے نام خط میں تحریر کیا: ر سالہ انصار اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بہت عمدہ رسالہ ہے۔جو ہر ماہ بہت سے علمی اور معلوماتی مضامین لے کر آتا ہے۔اس رسالہ میں آپ کے اپنے اور دیگر مضمون نگار