تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 771 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 771

221 سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے نو مبائعین کے بارہ میں مضمون پر اظہار خوشنودی فرماتے ہوئے ایڈیٹر انصار اللہ کے نام مندرجہ ذیل خط لکھا۔پیارے مکرم ایڈیٹر صاحب ماہنامہ انصار اللہ ربوہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ماہ مارچ ۱۹۹۸ء کے شمارہ میں عزیزم انتصار احمد نذر صاحب کا مضمون ”نو مبائعین کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود کی پاکیزہ نصائح مجھے بہت پسند آیا۔جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔یہ مضمون موجودہ ضرورت کو پورا کرتا ہے۔اصلاح وارشاد کو چاہئے کہ وہ ان سنہری پاکیزہ نصائح کو نو مبائعین تک پہنچائے تا کہ وہ اپنے ایمان کو تر و تازہ کریں اور بیعت کی حقیقت اور اس کی رُوح کو جانیں۔عزیزم نذر صاحب کو محبت بھر اسلام اور دعا ئیہ پیغام پہنچا ئیں۔“ ماہنامہ انصار اللہ قارئین کی نظر میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اپنے خط محررہ یکم اکتو بر۱۹۸۲ء میں تحریر فرماتے ہیں۔مجھے آپ کا رسالہ انصار اللہ باقاعدگی سے ملتا رہتا ہے اور میں اسے بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھتا ہوں اور اسکے مضامین سے کما حقہ فائدہ اٹھاتا ہوں“ حضرت مرزا عبدالحق صاحب امیر صوبائی پنجاب نے اپنے مکتوب محرر ہ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۲ء میں لکھا: خاکسار رسالہ انصار اللہ ہمیشہ پڑھتا ہے۔ماشاء اللہ بہت دلچسپ اور ایمان افروز مضامین پر مشتمل ہوتا ہے۔شروع سے آخر تک پڑھنے کے قابل ہوتا ہے۔ماہ ستمبر کے رسالہ میں بھی بڑے اچھے اچھے مضمون ہیں۔کسی ایک کو بھی چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا۔“ مکرم مولا نا شیخ مبارک احمد صاحب (امیر ومشنری انچارج ) انگلستان اپنے خط محرره ۲۰ دسمبر ۱۹۸۲ء میں تحریر فرماتے ہیں : ما شاء اللہ رسالہ بہت عمدہ مؤثر انداز میں مرتب ہوتا ہے اور ہر ایک مضمون اور شذرہ پڑھ کر روحانی لذت و سرور حاصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ترتیب دینے والوں ، لکھنے والوں 66 اور شائع کرنے والوں کو جزائے خیر دے۔آمین۔“ مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ ( سابق مشنری انچارج سوئٹزر لینڈ ) اپنے مکتوب ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۲ء میں تحریر فرماتے ہیں : خاکسار کی دانست میں اس کا معیار ماشاء اللہ بلند ہے اور بڑی مفید خدمت بجا لا رہا