تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 667
اور طلباء کے ہمدرد اور خیر خواہ مشہور تھے بعدۂ ریویو آف ریچز انگریزی اور اردو کے ایڈیٹر کی حیثیت سے آپ کی زبان دانی کا شہرہ قائم ہوا۔آپ کی علمی اور تنظیمی صلاحیتوں کی وجہ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نظارت تعلیم آپ کے سپر دفرمائی اور پھر خلافت ثالثہ کے عہد میں آپ صدرا انجمن احمدیہ کے صدر کے عہدہ جلیلہ پر متمکن ہوئے۔تعلیمی اور تنظیمی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زہد ، سادہ زندگی، تواضع ، رضا بالقضا کے اعلیٰ اخلاق سے مزین فرمایا تھا۔آپ کی زندگی آپ کے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر کی مصداق تھی۔”در جہاں و باز بیروں از جہاں۔بس ہمیں آمدنشان کا ملاں زُہد اور تواضع کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظرافت اور مزاح سے حصہ وافر عطا فرمایا تھا کہ آپ سے ملنے والا دیر تک اس سے حظ اٹھاتا اور لطف اندوز ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلسلہ کے جہاد کبیر میں بھی حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی۔امریکہ میں آپ نے داعی الی اللہ کے فرائض سرانجام دے کر سلسلہ کی تبلیغی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑے اور جس آستانہ پر آپ نے جوانی میں دھونی رمائی تھی اس سے موت ہی آپ کو علیحدہ کر سکی۔آپ کی زندگی کا یہ حسین پہلو خدام اور انصار کے لئے ثابت قدمی کی ایک مثال ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ۔الاستقامة فوق الكرامه حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات پر آپ کو جن الفاظ میں خراج تحسین ادا فرمایا ہے وہ ہمیشہ تاریخ احمدیت میں محفوظ رہیں گے۔حضور نے داعی الی اللہ کا لقب آپ کو دیتے ہوئے آپ کی صفات ، پاک نفس، درویش صفت ، مستجاب الدعوات کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ وہ حضرت مولوی صاحب کے درجات کو بلند فرمائے۔اُن کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور آپ کی جدائی سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں سے آنے والی نسل کو تو فیق عطا فرمائے کہ وہ اعلیٰ صلاحیتوں اور تعلق باللہ سے اس کو پر کر سکیں۔آمین یا رب العالمین۔ہم میں ممبران مجلس عاملہ انصار اللہ مرکز یہ پاکستان (۲) یه قرار داد تعزیت سید نا حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی خدمت میں بھی بھجوائی گئی۔جس کے جواب میں حضور نے ۲ مئی ۱۹۸۳ء کوتحریر فرمایا: جزاکم الله بروفات حضرت سیدہ نواب امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ بنت سیدنا حضرت مسیح موعود مجلس انصار اللہ مرکزیہ کا یہ غیر معمولی اجلاس سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نوراللہ مرقدہا کی وفات بتاریخ ۶ مئی ۱۹۸۷ء پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نور اللہ مرقد با حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی مبشر اولاد میں سے سب سے چھوٹی تھیں۔آپ الہی بشارت کے تحت ۲۵ جون ۱۹۰۴ء کو قادیان میں پیدا ہوئیں۔سیدنا حضرت