تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 668 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 668

۶۶۸ اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کا الہام دُختِ کرام آپ کے حق میں پورا ہوتا ہے اور اس الہام کی روشنی میں واقعہ شرافت اور اخلاق کریمانہ آپ کے خون اور مزاج میں شامل تھے۔حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی“ میں آپ کی پیدائش کو اپنی صداقت کا چالیسواں نشان قرار دیا ہے۔آپ کی شادی حضرت نواب عبد اللہ خاں صاحب نور اللہ مرقدہ سے الہی منشاء کے تحت ہوئی۔نواب صاحب ایک درویش صفت اور تقویٰ شعار انسان تھے۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھ بیٹیاں اور تین بیٹے عطا فرمائے۔۱۹۶۲ء میں آپ کو بیت الحمود زیورچ ( سوئٹزر لینڈ ) کا سنگ بنیا درکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ سالہا سال تک لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی اعزازی رکن رہیں۔آپ نے خلافت رابعہ کے انتخاب کے بعد حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی الیس الله بکاف عبدہ والی تاریخی اور بابرکت انگوٹھی سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کو پہنانے کا شرف حاصل کیا۔آپ کا شمار ان مبشر وجودوں میں ہوتا ہے جنہیں وفات کے بعد حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ارشاد ”میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے (ضمیمہ رسالہ الوصیت ) آپ بہت پاک خواور پاک شکل تھیں اور آپ کی طبیعت میں نہایت جاذبیت تھی اور بچوں سے بہت پیار کیا کرتی تھیں اور بچے بھی جلد آپ سے مانوس ہو جاتے تھے۔آپ نہایت درجہ تقوی شعار، دعا گو اور بابرکت وجود تھیں۔آپ کی ساری زندگی پاکیزگی اور نیک نفسی کا نمونہ تھی۔آپ کی وفات کا صدمہ نہایت ہی صبر آزما اور جانکاہ ہے۔ہم ممبران مجلس عاملہ انصار اللہ مرکز یہ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ ، تمام احباب جماعت حضرت سیدہ بیگم صاحبہ نور اللہ مرقدہا کی اولا د اور خاندان حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے جملہ افراد سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت سیّدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نور اللہ مرقدہا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے ہر آن آپ کے درجات بلند فرمائے اور جملہ پسماندگان اور تمام احباب جماعت احمد یہ عالمگیر کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔آپ کی خوبیوں کا وارث بنائے اور اس صاحب برکت وجود کی برکتوں سے وفا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین 1 بروفات حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ امسیح الرابع مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان کے تمام اراکین نے حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ، حرم حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اندوہناک وفات کی خبر انتہائی رنج و غم اور دلی درد و کرب کے ساتھ سنی۔حضرت سیدہ بیگم صاحبہ کی رحلت مورخہ ۳ اپریل ۱۹۹۲ء جمعۃ الوداع کے ابتدائی لمحات میں بعمر چھپن سال لندن کے ہسپتال میں واقع ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ حضرت سیدہ بیگم صاحبہ نوراللہ مرقدھا قادیان میں پیدا ہوئیں۔آپ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے پوتے حضرت مرزا رشید احمد صاحب اور پوتی حضرت سیدہ امتہ السلام صاحبہ کی جگر گوشہ، حضرت مصلح موعود خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عہ کی ہو اور قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی نواسی تھیں۔