تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 28
۲۸ ہے؟ اللہ تعالیٰ ان سب کا رکنوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے کسی نہ کسی حیثیت سے محض اللہ تعاون فرمایا۔اور یہ مجلس پہلے سے آگے بڑھتی رہی۔ایک دور کا سوال نہیں ہے۔ہر دور میں یہ مجلس آگے بڑھے گی۔میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ آگے بڑھنا آپ کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ہر اگلے دور میں محسوس ہوگا کہ یہ مجلس پچھلے دور سے آگے بڑھ گئی ہے لیکن نہ پچھلوں کا قصور ہو گا۔نہ اگلوں کی خوبی حقیقت یہ ہے کہ جس قوم کے مقدر میں آگے ہی آگے جانا ہے۔اُس نے آگے بڑھنا ہے اس کے لئے کبھی ٹھہر نے کا وقت نہیں آئے گا نہ آپ کے لئے آ سکتا ہے نہ انشاء اللہ تعالیٰ آئے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہمارے اعمال اس راہ میں حائل نہ ہو جائیں کیونکہ جہاں تک تقدیر الہی کا تعلق ہے وہ یہی ہے۔(۱۰) تقاریر علمائے سلسلہ سالانہ اجتماع کے دوران تینوں دن علمائے سلسلہ نے مختلف موضوعات پر تقاریر کیں اور درس دیئے نیز نمائندہ امریکہ نے بھی خطاب کیا۔بعض تقاریر کے خلاصے مقررین کی زبانی پیش کئے جاتے ہیں : نماز با جماعت کی اہمیت محترم ملک سیف الرحمن صاحب نے نماز با جماعت کی اہمیت پر درس حدیث دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلام تو حید کا مذہب ہے۔اس میں وحدت پر بے حد زور دیا گیا ہے اور اس کے ہر حکم میں وحدت اور اتحاد کی روح کارفرما ہے۔نماز جو معراج المومنین ہے، اس میں بھی یہی روح اور اجتماعیت کارفرما ہے یہاں تک کہ اگر کوئی جان بوجھ کر لا پرواہی سے کسی عذر کے بغیر اکیلے نماز پڑھتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی رو سے اس کی نماز رڈ ہونے کے لائق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور آپ کے ارشادات سے یہی ثابت ہے کہ اصل نماز تو نماز با جماعت ہی ہے۔بیماری کی ایک آدھ نماز کے سوا حضور نے ہمیشہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کی۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی،حضرت ابو بکر کو نماز پڑھانے کا ارشاد فرمایا۔اس دوران حضور کی طبیعت کچھ سنبھل گئی تو حضور نے دو آدمیوں کا سہارا لیتے ہوئے مسجد کا رخ فرمایا۔اس وقت ضعف کی وجہ سے حضور کے قدم زمین پر پورے طور پر نہیں پڑتے تھے بلکہ گھسٹتے جاتے تھے۔حضرت ابو بکر نے آنحضرت کو آتے دیکھا تو وہ نماز پڑھانے سے ہٹنے لگے۔لیکن حضور نے انہیں نماز پڑھاتے رہنے کا اشارہ فرمایا اور خود ان کے پہلو میں بیٹھ کر نماز ادا کی۔جو لوگ طاقت رکھتے ہوئے مسجد میں آ کر نماز باجماعت ادا نہیں کرتے ان کے متعلق حضور نے فرمایا ہے کہ میرا دل چاہتا ہے ایسے