تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 27 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 27

۲۷ منزلیں طے کرتے دیکھتے تھے تو دل اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ بھر جاتا تھا۔یہ وہ روحانی غذا ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔یہ جسم کے انگ انگ کو سہلاتی تھی۔تسکین پہنچاتی تھی اور نئی طاقت اور توانائی سے بھر دیتی تھی۔پھر غیروں کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے اسی قسم کے فضلوں کے نظارے دکھائے۔۔۔۔۔ہر بات جو ہم بیان کرتے تھے اس کو بڑی تنقیدی نظر سے دیکھتے تھے لیکن رفتہ رفتہ رنگ بدل جاتا تھا۔دیکھتے دیکھتے ان کی طبیعتیں نرم پڑ جاتی تھیں اور ملائم ہو جاتی تھیں۔آنکھوں میں ادب آ جا تا تھا۔اور محبت پیدا ہو جاتی تھی۔دو حر ہے جو بار ہا استعمال کئے گئے۔دونوں نے ہی ہمیشہ الٹا اثر دکھایا ان کے نقطہ نگاہ سے۔ایک تو ثمینی صاحب کو ہمیشہ نشانہ بنایا جا تا تھا۔اس کا اللہ تعالیٰ نے جو جواب دینے کی تو فیق عطا فرمائی وہ میں انشاء اللہ کل ذکر کروں گا۔دوسرے عورت کے مقام کے متعلق پوچھا جاتا۔اور یہ سوال ہمیشہ عورتوں کی طرف سے ہوتا تھا۔عورتیں پریس کی نمائندہ بہت کثرت سے ہوتی ہیں۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان تھی کہ پریس کی مجلس کے دوران جوابات کے بعد وہ نمائندگان بلند آواز سے اقرار کرنے لگتی تھیں کہ ہاں۔یہ ٹھیک ہے۔اسلام عورت کو زیادہ بلند مقام دیتا ہے۔۔۔۔میں یہ محسوس کرتا تھا کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ایک پاک تبدیلی پیدا ہورہی ہے اور یورپ میں ایک خاص ہوا چلی ہے جو دلیل کو سننے کے لئے ان کو آمادہ کر رہی ہے۔اور ان کے اندر خطرات کے احساس کو بیدار کر رہی ہے۔اسی لئے طبیعت میں بڑی فکر پیدا ہوتی تھی کہ ہماری کوششیں اس کے مقابل پر کچھ بھی نہیں ہیں۔ہمیں لازماً ان کوششوں کو تیز کرنا پڑے گا۔لازماً واقفین کی تعداد بڑھانی پڑے گی۔اور بکثرت اپنے بوڑھوں ، بچوں، جوانوں اور عورتوں کو اس میدان میں جھونکنا پڑے گا۔۔میں آپ کا بہت ممنون ہوں کہ آپ نے بڑی محبت کے ساتھ اور بڑے پیار کے ساتھ سلوک فرمایا۔اب بھی اور اس سے پہلے بھی جب تک انصار سے وابستہ رہا ہوں بہت ہی غیر معمولی تعاون فرمایا ہے۔حالانکہ میری کوئی حیثیت نہیں تھی۔میری کوئی بساط نہیں تھی۔میں یہاں تھا ہی نہیں جب آپ نے مجھے صدر چنا تھا۔اس وجہ سے میں اپنے آپ کو بڑا اوپرا ( غیر مانوس اجنبی ) محسوس کرتا تھا۔عمر کے لحاظ سے اگر چہ بوڑھا تو تھا لیکن اپنے آپ کو بوڑھا ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔اس لئے بھی اوپر ا لگتا تھا۔کہ بوڑھا بھی بنوں بلکہ بوڑھوں کا صدر بن کے بیٹھ جاؤں۔اور دوسرے اس لئے کہ مجھے کسی مجلس عاملہ میں بھی شامل ہونے کا موقعہ نہیں ملا تھا۔بالکل تجربہ نہ تھا کہ اس مجلس کے کیا آداب ہیں؟ اس کو کس طرح چلانا