تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 29 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 29

۲۹ لوگوں کے گھروں کو ان کے مکینوں سمیت جلا دوں۔سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکرم سید عبدالحئی شاہ صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے موضوع پر اپنی تقریر میں بیان کیا کہ کسی انسان کی سیرت کو جانچنے اور پر کھنے کے کئی طریقے ہیں۔ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہم دیکھیں اس شخص کی تمنائیں اور آرزوئیں کیا ہیں۔وہ زندگی کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔وہ خدا کے حضور جب دعا کرتا ہے تو کن مقاصد کی تکمیل کی خواہش ظاہر کرتا ہے اور اس کا صحیح نظر کیا ہے؟ وہ تضرع اور ابتہال کی گھڑیوں میں اپنے خدا سے کیا مانگتا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شب حضور کی باری میرے ہاں تھی۔حضور نصف شب کے قریب اٹھے۔میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ دیکھوں حضور کہاں جاتے ہیں۔حضورسید ھے قبرستان کی طرف گئے اور وہاں پہنچ کر نوافل پڑھنا شروع کر دیئے۔حضور جب سجدہ میں گئے تو آپ کا سینہ کثرت گریہ وزاری سے یوں تھا جیسے ہنڈیا اہل رہی ہوا اور حضور بار بار خدا کے حضور یہ دعا مانگ رہے تھے۔اللَّهُمَّ سَجَدَتْ لَكَ رُوحِي وَجَنَانِی۔اے اللہ ! میری روح اور میرے دل تیرے حضور سجدہ ریز ہیں۔روایات میں آتا ہے کہ حضور رات کو نماز تہجد میں اتنی دیر قیام فرماتے کہ آپ کی پنڈلیوں میں ورم ہو جاتا۔حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ ہم نے دریافت کیا کہ حضور ایسا کیوں کرتے ہیں؟ حضور کی تو اگلی پچھلی خطائیں اللہ تعالیٰ نے معاف فرمائی ہیں۔تو حضور نے جواباً فرمایا أَفَلَا كُونَ عَبْدًا شَكُورًا۔تو کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔حضور ہمیشہ خدا کی محبت مانگتے۔اپنی امت کی اصلاح کے لئے دعائیں مانگتے۔دشمنوں کی بخشش کے لئے خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے۔دنیاوی مال و دولت اور آرام و آسائش کے لئے آپ کی دعائیں نہ ہو ا کرتی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور فریضہ تبلیغ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور فریضہ تبلیغ کے موضوع پر مکرم مولا نا محمد شفیع اشرف صاحب نے تقریر میں بتایا کہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر لمحہ خدا کے پیغام کی اشاعت اور مخلوق خدا کی بھلائی اور خیر خواہی کے لئے وقف تھا۔آپ کی بعثت کا مقصد ہی یہ تھا کہ ہر شخص تک خدائے واحد دیگانہ کا پیغام پہنچ جائے اور بنی نوع انسان اپنے خالق و مالک کی معرفت حاصل کر لے۔خدا ئی ارشاد کہ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا اُنْزِلَ إِلَيْٹ کی تعمیل میں آپ تبلیغ دین کا کوئی موقعہ بھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت فرمایا تو اہل مکہ نے شدید مخالفت کی اور مسلسل اُنیس سال تک مختلف طریقوں سے آپ کو تکلیف پہنچاتے رہے لیکن حضور نے تبلیغ کا سلسلہ کسی لمحہ بند نہ کیا۔مخالفت کے یہ حالات بہت حد تک آپ کے لئے اس امر میں مانع تھے کہ آپ عالمی سطح پر اسلام کی تبلیغ کے لئے کوئی