تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 424
۴۲۴ نیا منصوبہ اور ذیلی تنظیموں کی ذمہ داریاں میں چاہتا ہوں کہ آپ کے ذریعہ یہ منصوبہ آپ کے تمام ممالک میں پہنچایا جائے اور وہاں اس کا نفاذ اور ابتداء جماعتوں کے ذریعہ نہیں بلکہ ذیلی تنظیموں کے ذریعہ کیا جائے مثلاً خدام الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ اور انصار اللہ وغیرہ۔بنیادی طور پر میں انہی سے مخاطب تھا۔اس سلسلے میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیونکہ انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ وغیرہ کے بعض اجتماعات میں میری ان تفصیلی ہدایات کو مکمل طور پر ریکارڈ کر کے محفوظ کیا جا چکا ہے۔قرآن کریم کو درست طور پر پڑھانے اور تلاوت کرنے نیز اس کے معانی سکھانے والوں کو لازمی طور پر یہ کیسٹ حاصل کرنے چاہئیں اور وہ ان کیسٹوں کو سنیں اور مجھے رپورٹ دیں۔میں یہ ہدایت جاری کر کے اس وقت تک مطمئن نہ ہوں گا جب تک کہ مجھے مختلف ممالک سے یہ اطلاع بوا لیسی نہ ملے کہ انہوں نے امراء یا اس غرض کے لئے مقرر شدہ عہد یداران خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ وغیرہ کی موجودگی میں یہ کیسٹ سن لئے ہیں اور یہ کہ انہوں نے ہدایات کو بڑی توجہ سے سن لیا ہے نیز یہ کہ وہ اسی طرح ان ہدایات کو نافذ کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔میں صرف اس صورت میں مطمئن ہوں گا ورنہ یہ پیغام رائیگاں جائے گا اور نتیجہ نہیں نکلے گا۔کئی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے میرے اس پیغام کو سنجیدگی سے لیا ہے۔آپ میرے پیغامات کی روح اور تفصیل میرے آڈیو وڈیو کیسٹوں سے جان سکتے ہیں۔لب لباب یہ ہے کہ ہم بہت وسیع پیمانہ پر اساتذہ تیار کرنا شروع کریں۔ہمارا انتہائی مقصد یہ ہوگا کہ ہر احمدی، مرد ہو یا عورت، قرآن کریم صحت کے ساتھ سکھانے والا استاد بن جائے۔۔۔۔۔۔قرآن کریم پڑھانا کوئی معمولی سی بات نہیں۔قرآن کریم کو سمجھنا، پہلے اس کی تلاوت کرنا پھر اسے سمجھ کر اس پیغام کو دنیا بھر تک پہنچانا ایک احمدی کی زندگی کا مقصد ہے۔پس یہ میری آرزو ہے، بلکہ شائد آرزو کا لفظ اس سلسلہ میں درست نہ ہو۔یہ صرف ایک آرزو نہیں ہے بلکہ میرا سمح نظر یہ ہے کہ اس طرح ہونا چاہئیے۔تمام احمدیوں سے یہ خدا تعالیٰ کا کم از کم مطالبہ ہے۔چنانچہ ایک احمدی سے خدا تعالیٰ کے کم از کم مطالبہ کے میرے تصور کے مطابق ہر احمدی کو قرآن کریم کی عربی زبان میں تلاوت کرنے اور اس سے برکت حاصل کرنے کے قابل ہونا چاہئیے۔ہر احمدی کو اپنی پوری صلاحیت کی حد تک ترجمہ کے واسطہ سے نہیں بلکہ براہ راست عربی متن سے خدا کے پیغام ( قرآن کریم ) کو سمجھنا چاہئیے۔ہمیں۔۔۔سب سے نچلی سطح سے آغاز کرنا چاہئیے۔اس طرح میں نے اگلے چار