تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 425 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 425

۴۲۵ پانچ سال کا منصوبہ بڑے غور وفکر کے بعد بنایا ہے۔ہم قرآن کریم کی تلاوت سکھانے کا آغاز آڈیو وڈیو کی مدد سے کریں گے لیکن یہ کلاسیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل مختلف ہوں گی۔میں نے ذیلی تنظیموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے افراد کو طلب کریں جو استاد کے طور پر خدمت کے لئے تیار ہوں خواہ ان کی تعداد تھوڑی ہو۔اپنی متعلقہ ذیلی تنظیموں سے انصار، لجنات اور خدام وغیرہ کا انتخاب کریں۔وہ اس کے لئے آگے آئیں۔مثلاً پندرہ دن کے لئے انہیں صرف اتنا کچھ پڑھایا جائے (اور اس سے زائد ہرگز نہیں ) جسے وہ پوری اہلیت کے ساتھ اخذ کرسکیں۔یہاں تک کہ اس قدر علم وہ نہایت مہارت سے دوسروں کو سکھا سکیں نیز آڈیو وڈیو کے آلات سے انہیں متعارف کرایا جائے اور یہ کہ ان سے کس طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے۔یہ بھی ایک ٹریننگ ہے جس کی ہم سب کو ضرورت ہے۔یہ سب کچھ کر لینے کے بعد اگلا مرحلہ اس وقت آئے گا جب وہ تربیت یافتہ استاد اپنے قصبوں اور علاقوں میں واپس جائیں گے۔وہاں جا کر ان کا کام ہو گا کہ اس قسم کی کلاسیں جاری کریں اور دوسروں کو تعلیم دیں، عام شاگردوں کی طرح نہیں بلکہ جس طرح ٹریننگ کالجوں کے طلباء کو تعلیم دی جاتی ہے۔اور جب ان کے بارے میں یقین ہو جائے کہ اب یہ آگے دوسروں کو اسی قدر پڑھا سکتے ہیں تو یہ حسب دستور کلاسیں جاری کر کے مزید شاگردوں کو وہ کچھ پڑھا ئیں جو انہوں نے سیکھا ہے۔اور ان کے استاد اپنے پہلے استادوں کے پاس جائیں جنہوں نے اب تک مزید علم حاصل کر لیا ہوگا ، اور وہ یہ مزید علم حاصل کریں اور اچھی طرح حاصل کرنے کے بعد اپنے پرانے شاگردوں کے پاس جائیں اور انہیں یہ زائد علم پڑھائیں اور یہ سلسلہ جاری رہے۔ہر جگہ مناسب طور پر اس سکیم کے نفاذ کی صورت میں آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ ترقی کی رفتار آہستہ ہوگی اور اسے آہستہ ہی ہونا چاہیے کیونکہ اس معاملہ میں ہمیں ایک آہستہ اور محتاط آغاز کی ضرورت ہے۔مجھے امید ہے کہ اس طریق سے اپنا مقصد حاصل کرتے ہوئے ہم ہر گھرانہ کو درست طور پر پڑھانے کا ایک معیاری ذریعہ مہیا کر سکیں گے اور یہ ہمارا اصل مقصد ہے۔ہمیں یقیناً اس میدان میں آ کر اس پختہ عزم کے ساتھ چیلنج قبول کرنا چاہئے کہ ہمیں ہرگز شکست نہیں ہوگی اور ہم اس وقت تک اس دنیا سے رخصت نہیں ہوں گے جب تک کہ ہم درست طور پر تلاوت قرآن کریم کرنے والی اور اس کے عربی متن سے براہ راست سمجھنے کی راہ پر چلنے والی اولا دکو اپنے پیچھے چھوڑنے کے اعلیٰ مقصد کو حاصل نہ کر لیں۔خدام بجنات اور انصار کی کمیٹیاں صرف اس خاص مقصد کے لئے قائم کی جائیں