تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 9
۹ جاری وساری رکھیں گے۔وَاللهُ الْمُوَقِّقُ وَ الْمُسْتَعَانُ - ہم ہیں ممبران مجلس عاملہ انصار اللہ مرکز یہ ربوہ سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع " کی ایک اہم ہدایت ۲۰ جون ۱۹۸۲ء کو سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ: ر پورٹوں کو اعداد و شمار میں ڈھالیں۔لمبے فقروں کی ضرورت نہیں۔مبالغہ آرائی سے کام نہ لیں۔سچائی پر قائم رہیں۔اسی کی ساری برکت ہے“۔﴿۳﴾ محترم صدر صاحب مجلس مرکزیہ نے حضور اقدس کا یہ ارشادفوری طور پر جملہ مجالس کو بھجوادیا اور نگرانی کی کہ سب مجالس اس کی پابندی کریں۔علم انعامی کے انتخاب کا معیار سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع " نے تینوں ذیلی تنظیموں (انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ ، لجنہ اما اللہ ) کے مقابلہ حسن کا ر کر دگی کے معیاروں پر نظر ثانی اور ان میں یکسانیت پیدا کرنے کے لئے ایک کمیٹی مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس انصار اللہ کی سربراہی میں مقرر فرمائی۔اس کے ممبران مندرجہ ذیل تھے۔(۱) صدر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ حضرت سیّدہ ام متین صاحبہ (۲) نمائندہ مجلس انصاراللہ مرکز یہ مکرم ڈاکٹر لطیف احمد صاحب قریشی (۳) نمائندہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کرم مرزا محمد الدین ناز صاحب اس کمیٹی نے تمام ذیلی تنظیموں کی عکم انعامی اور اول دوم اور سوم آنے والی مجالس کے انتخاب کرنے کے طریق کار کا جائزہ لیا اور باہم مشورہ کے بعد درج ذیل رپورٹ پیش کی۔مقابلہ حسن کا ر کر دگی (علم انعامی وغیرہ) میں مجالس کو ابتدائی جائزہ کے لیے سات بنیادی کوائف پر غور کیا جائے اور جو مجالس ان میں سے حسب حالات ۷، ۶ یا ۵ معیار پوری کرتی ہوں ، انہیں مقابلہ میں شامل کیا جائے۔یہ معیار درج ذیل ہیں۔(۱) مجلس کی رپورٹ کا ر کر دگی کی ماہ بماہ باقاعدگی سے مرکز میں آمد۔(۲) مجلس کی نئی فہرست تجنید سال کی ابتدا میں مرکز میں آمد۔(۳) مرکزی سالانہ اجتماع میں مجلس میں نمائندگی۔(۴) مجلس کی طرف سے تشخیص بجٹ اور سو فیصد تدریجی وصولی دوران سال (۵) دعوت الی اللہ کی مقرر کردہ سکیم از مرکز کا مجلس میں اجراء اور اس میں اراکین مجلس کی ایک