تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 10 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 10

معین تعداد میں شمولیت کی رپورٹ مرکز میں موصول ہو چکی ہو۔(۶) نماز با جماعت اور خواتین کے پردہ کے متعلق مجلس کی طرف سے ارسال کردہ معین رپورٹ کی مرکز میں آمد۔(۷) مرکزی امتحانات میں مجلس کے اراکین کی ایک معین تعداد میں شمولیت مندرجہ بالا معیار پر حسب قواعد پورا اترنے والی مجالس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور انہیں پر شعبہ میں کارکردگی کے لحاظ سے نمبر لگائے جائیں۔اس تفصیلی جائزہ کے لئے شعبہ جات اصلاح وارشاد، تربیت تعلیم اور خدمت خلق کے نمبر دوسرے شعبہ جات کی نسبت زیادہ مقرر ہوں۔دوسرے نمبر پر شعبہ جات عمومی ( اعتماد ) اور مال وغیرہ ہوں اور اس کے بعد باقی شعبہ جات کے نمبر ہوں ( مثلاً اصلاح و ارشاد۲۰۰ نمبر، اعتماد۱۰۰ نمبر اور وقف جدید ۵۰ نمبر وغیرہ۔بطور وضاحت تحریر ہے ) تفصیلی جائزہ کے بعد مقابلہ میں حاصل ہونے والے نمبروں کے اعتبار سے پہلی دس پوزیشن حاصل کرنے والی مجالس کا انتخاب کر کے ان کا اعلان کیا جائے“۔یہ سفارشات صدر کمیٹی نے ۱۴ فروری ۱۹۸۴ء کو حضور کی خدمت میں بھجوائیں۔۱۸ فروری ۱۹۸۴ء کو حضور نے ان کی منظوری عطا فرمائی تا ہم شق نمبر ۳ پر تحریر فرمایا: دور اور نزدیک کی مجالس میں انصاف قائم رکھنے کا کیا طریق ہوگا“ اس ارشاد پر صدر صاحب کمیٹی نے ۲۵ ستمبر ۱۹۸۴ء کو تحریر کیا کہ اس امر پر علا وہ ممبران کمیٹی علم انعامی ( تینوں تنظیمیں ) مجلس عاملہ انصار اللہ مرکز یہ میں بھی غور ہوا۔عرض ہے کہ اولاً یہ معیارصرف ابتدائی جائزہ اور انتخاب مجالس کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور اس کی ترمیم اس طریق پر تجویز کی گئی ہے کہ مرکزی سالانہ اجتماع میں مجلس کی نمائندگی ہولیکن بیرونی ممالک کی مجالس پر اس قاعدہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔تفصیلی جائزہ میں دورو نزدیک کی پاکستان کی مجالس کو نمائندگی کا علیحدہ علیحدہ ٹارگٹ دیا جائے ( جیسا کہ پہلے بھی کسی حد تک ہو رہا ہے ) اور پھر ان کی کارکردگی کے لحاظ سے فائنل مقابلہ کے نمبر لگائے جائیں۔اس طریق پر عمل کرنے سے اُمید ہے کہ مجالس میں انصاف قائم رہے گا حضور نے اس طریق کو منظور فرمالیا۔رپورٹ شعبہ اصلاح وارشاد مرکزیہ از جنوری تا ستمبر ۱۹۸۲ء مرکزی وفود نے اس عرصہ میں ایک سو چار مجالس مذاکرہ اور ایک سوٹیکس سلائیڈ لیکچرز میں دوسونو گھنٹے صرف کئے۔چار ہزار آٹھ سو تہتر انصار کے علاوہ چار ہزار ایک سواسی خدام، اطفال اور لجنات مستفید ہوئے۔