تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 936
۹۳۶ مجلس ربوہ مقامی کی سالانہ کھیلیں شعبہ ذہانت و صحت جسمانی مجلس انصار اللہ مقامی ربوہ کے زیر اہتمام آل ربوہ سالانہ کھیلیں“ منعقد کرنے کے لئے ربوہ کو آٹھ بلا کس میں تقسیم کیا گیا۔مقابلوں میں انفرادی اور اجتماعی مقابلہ جات شامل تھے۔تفصیل درج ذیل ہے۔انفرادی مقابلہ جات: سلوسائیکلنگ ،سائیکل ریس، دوڑ سو میٹر ، کلائی پکڑنا، مشاہدہ ومعائنہ، میوزیکل چیئر۔اجتماعی مقابلہ جات: رسہ کشی ، والی بال اور پیغام رسانی مورخه ۱۳ اگست ۱۹۹۹ ء سے بلاکس میں مقابلوں کا آغاز ہو گیا جو ۲۷ اگست تک چلا۔اس دوران رسہ کشی اور دیگر مقابلہ جات منعقد کروائے گئے۔انفرادی مقابلہ جات حلقہ کی سطح پر منعقد ہوئے اور ہر حلقہ سے منتخب ہونے والے انصار کو فائنل مقابلہ جات کے لئے منتخب کیا گیا۔فائنل مقابلہ جات مورخہ استمبر ۱۹۹۹ ء کو دارالرحمت غربی کی گراؤنڈ میں منعقد ہوئے۔حلقہ جات۔سے منتخب ہو کر آنے والے انصار ان مقابلوں میں شامل ہوئے۔سب سے پہلا مقابلہ سائیکل ریس کا تھا۔مکرم مولانا محمد صدیق صاحب شاہد گورداسپوری زعیم اعلیٰ ربوہ نے دعا کے ساتھ ان مقابلوں کا افتتاح فرمایا۔سائیکل ریس یوٹیلٹی سٹورر بوہ کے نزدیک سے شروع ہوئی اور سوئمنگ پول کے قریب جا کر ختم ہوئی۔باقی تمام مقابلہ جات دارالرحمت غربی کی گراؤنڈ میں ہوئے۔گراؤنڈ کو پہلے ہی درست کر لیا گیا تھا اور صفائی کروا دی گئی تھی۔مقابلوں کے لئے گراؤنڈ میں چونے سے نشان لگا دیئے گئے تھے۔کھلاڑیوں اور مہمانوں کے لئے ٹھنڈے پانی کا انتظام تھا۔کھلاڑیوں نے بڑے جوش و خروش اور نظم وضبط کے ساتھ مقابلوں میں حصہ لیا۔مقابلوں کو دیکھنے کے لئے انصار کے علاوہ خدام بھی موجود تھے۔مقابلوں کے اختتام پر کھلاڑیوں اور مہمانوں کی چائے کے ساتھ تواضع کی گئی۔ان مقابلوں کے انعامات سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ ربوہ کے موقعہ پر تقسیم کئے جانے تھے۔لیکن بوجوہ سالانہ اجتماع منعقد نہ ہو سکا چنانچہ تقریب تقسیم انعامات ۱۸ نومبر ۱۹۹۹ء کو ہال دفتر مجلس انصار اللہ ربوہ میں منعقد کی گئی۔تلاوت کے بعد مکرم زعیم صاحب اعلیٰ نے مختصر رپورٹ پیش کی پھر مکرم چوہدری حمیداللہ صاحب صدر مجلس نے نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے انصار میں انعامات تقسیم فرمائے۔صدر محترم نے اپنے خطاب میں انعامات حاصل کرنے والوں کو مبارک دی اور کہا کہ حالات کے مطابق جس رنگ میں بھی جماعت اپنے پروگراموں کو جاری رکھ سکتی ہے، رکھنے چاہئیں۔آپ نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غلبہ دین کے لئے دینی واقفیت کو ضروری قرار دیا ہے۔اس کے بنیا د قرآن کریم ، اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سیرت