تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page v
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُه وَنُصَّلِي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم عرض حال بانی انصار اللہ سید نا حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی رحم اللہ تعالی نے قومی ترقی میں تاریخ کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اپنے مشہور عالم لیکچر اسلام میں اختلافات کا آغاز میں فرمایا ہے کہ اقوام کی ترقی میں تاریخ سے آگاہ ہونا ایک بہت بڑا محرک ہوتا ہے۔اور کوئی ایسی قوم جواپنی گزشتہ تاریخی روایات سے واقف نہ ہو، کبھی ترقی کی طرف قدم نہیں مارسکتی۔اپنے آبا ؤ اجداد کے حالات کی واقعیت بہت سے اعلیٰ مقاصد کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔“ اسی لئے سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا تھا کہ اپنی تاریخ کا مطالعہ کئے بغیر نہ حال روشن ہو سکتا ہے نہ مستقبل واضح ہوتا ہے۔رُخ ہی معین نہیں ہوتا۔“ ( روزنامہ الفضل ۷ اجولائی ۱۹۸۲ء) اسی اہمیت کے پیش نظر مجلس شوریٰ انصار اللہ کے فیصلہ کے مطابق تاریخ انصار اللہ کی تدوین کا آغاز کیا گیا تھا۔پہلی جلد ۱۹۷۸ء میں مکرم پر وفیسر حبیب اللہ خان صاحب ( سابق نائب صدر وقائد تعلیم ) کی قلم سے شائع ہوئی۔اس جلد میں آغاز سے ۱۹۷۸ء تک کے حالات قلم بند کئے گئے تھے۔پھر خاکسار کو تاریخ کی دوسری جلد تر تیب دینے کی سعادت ملی جو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے مبارک عہد صدارت پر مشتمل تھی۔اب اسی تسلسل میں جلد سوم پیش ہے۔اس جلد میں جون ۱۹۸۲ء سے ۱۹۹۹ ء تک کے واقعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔یہ تمام دور مکرم و محترم چوہدری حمید اللہ صاحب کے دور صدارت پر مشتمل ہے۔یہ دور کئی اعتبار سے انفرادیت لئے ہوئے ہے۔اسی دور میں سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے ذیلی تنظیموں میں ملکی صدارت کا انقلابی نظام رائج فرمایا تھا۔اس طرح محترم چوہدری صاحب جون ۱۹۸۲ء سے ۳ نومبر ۱۹۸۹ ء تک بطور صدر مجلس انصار اللہ مرکز یہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مجالس کے نگران رہے اور پھر اس کے بعد ۱۹۹۹ء تک مجلس انصار اللہ پاکستان کے صدر کے فرائض سرانجام دیئے۔جماعت احمدیہ کی صد سالہ جو بلی (۱۹۸۹ء) بھی اسی عہد کا ایک یادگار، تاریخی اور سعید واقعہ ہے۔۱۹۸۴ء کا پُرفتن ہنگامہ خیز سال بھی آیا جب ایک آمر نے مذہبی اور ملکی تاریخ کا ایک نہایت ظالمانہ اور بہیمانہ آرڈینینس جاری کیا اور جس کے نتیجے میں خلیفہ وقت کو عارضی طور پر پاکستان سے ہجرت کرنا پڑی اور بہت سی دینی سرگرمیوں پر قدغن عائد ہوگئی۔احباب جماعت کو طرح طرح کے مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔جلسہ سالانہ اور دیگر اجتماعات کے انعقاد پر سر کاری پابندیاں