تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page vi of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page vi

لگا کر مرکز میں احباب کی آمد کے مواقع کم کرنے کی سازشیں کی گئیں۔اس ماحول میں مجالس اور افراد سے رابطہ کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر محسوس ہونے لگی۔ان حالات میں افراد جماعت سے ملاقات ، اُن کے حوصلہ کو بلند رکھنا ، جس حد تک ممکن ہو دینی سرگرمیوں کو جاری رکھنا اور سب سے بڑھ کر خلیفہ وقت کی مرکز سے غیر موجودگی میں انصار کی مسلسل نگرانی اور تربیت کی بہت بھاری ذمہ داری عہدیداران پر آن پڑی۔مجلس نے اس کٹھن اور پر آزمائش دور میں پاکستان بھر میں مجالس کے دورہ جات کا مربوط نظام تشکیل دیا۔پھر خدا تعالیٰ نے حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کی ولولہ انگیز قیادت میں ایم ٹی اے کا بابرکت آسمانی نظام جاری فرما کر خلیفہ وقت سے دوری کو قربت میں بدل دیا۔الحمد للہ خاکسار کو شدت سے اس امر کا احساس ہے کہ اس دور کو کما حقہ قلم بند نہیں کیا جاسکا۔کیونکہ ہنگامی حالات کی وجہ سے تمام تفاصیل کا ریکارڈ بوجوہ محفوظ نہیں۔تاہم پوری کوشش کی گئی ہے کہ جماعتی اخبارات و رسائل اور مرکزی ریکارڈ اور فائلوں وغیرہ سے جس قدر بھی موادل سکے اُسے اس جلد میں سمو دیا جائے۔اس جلد میں اُس دور کی مرکزی مساعی ، دورہ جات ، مجالس کی سرگرمیوں اور سالانہ اجتماعات کے علاوہ سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح کے ارشادات اور خطابات نیز صدر مجلس کی ہدایات اور تقاریر کا مفصل تذکرہ کیا گیا ہے۔مجلس شوری کے فیصلہ جات، دستور اساسی مجلس کا مالی نظام اور دیگر شعبہ جات کا کسی قدر ذکر بھی اس میں شامل ہے۔نا شکر گزاری ہوگی اگر مسودے کی تیاری کے سلسلہ میں اُن احباب کا ذکر نہ کروں جنہوں نے اس ذمہ داری کو نبھاہنے میں خاکسار کی معاونت کی۔مشکور ہے کہ جنہوں نے نہ صرف مسلسل راہنمائی کی بلکہ اپنی مصروفیات کے باوجود نہایت باریک نظری سے مسودہ کو پڑھا اور ہدایات دیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام احباب کو اپنی بے پایاں رحمتوں سے حصہ وافر عطا فرمائے۔آمین قارئین کی خدمت میں درخواست ہے کہ اس جلد میں قابل اصلاح یا قابل شمولیت مواد سے خاکسار کو ضرور مطلع فرمائیں نیز دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ تالیف کی اصل غرض کو پورا کرتے ہوئے اس کتاب کو خیر و برکت کا موجب بنائے اور اس کمترین کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے صرف نظر فرماتے ہوئے اراکین مجلس کے لئے نافع بنائے۔آمین