تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 350
۳۵۰ ”جہاں تک جماعتی نظام کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔اس پہلو سے کہ پاکستان کی جماعتوں سے باہر پہلے وہ نظام جو پاکستان میں یاا س سے پہلے ہندوستان میں رائج تھا وہ تمام دنیا میں اس طرح تفصیل سے رائج نہیں ہوا تھا بلکہ بالعموم دستور یہی تھا کہ مرکزی نمائندہ بطور مربی کسی ملک میں مقرر کیا جائے وہی امیر ہوا کرتا تھا اور دراصل اسی کی وساطت سے مرکز سے ساری جماعت کا رابطہ رہتا تھا یا بعض صورتوں میں عدم رابطہ کا بھی وہی ذمہ دار بنتا تھا۔گذشتہ چند سالوں سے اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرمائی کہ سارے نظام عالم کو ہمہ گیر کیا جائے اور جماعت احمد یہ دنیا میں جہاں کہیں بھی پائی جائے ایک ہی نظام کی لڑیوں میں منسلک ہو، ایک ہی اسلوب پر چل رہی ہو اور ملک ملک کا فرق نہ رہے۔اس کے ساتھ ہی کچھ عرصہ پہلے ایک یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ صدران مجالس مرکز یہ یعنی خدام الاحمدیہ کے صدر اور انصار اللہ کے صدر اور لجنہ کی صدر یہ تمام دنیا کے صدران نہ ہوں بلکہ ہر ملک کا صدر اپنے ملک کے لحاظ سے جوابدہ ہو اور وہی اس ملک میں آخری ذمہ دار ہو جس کا تعلق براہ راست خلیفہ وقت سے ہو اور اس طرح دنیا میں ہر صدارت کا نظام بھی پاکستان کے صدارت کے نظام کے متوازی جاری ہو جائے اور یہ نہ ہو کہ صدارتیں پاکستان کی صدارت کے تابع ان کی وساطت سے خلیفہ وقت سے رابطہ رکھیں۔ان دونوں انتظامی تبدیلیوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں غیر معمولی بیداری پیدا ہوئی اور نشو و نما کے لحاظ سے ایک ایسے دور میں داخل ہوئی ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی امید افزا ہے اور بہت تیزی کے ساتھ جماعت کے ہر حصے، ہر شعبے اور ہر طبقہ زندگی میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔اس کے نتیجے میں ذمہ داریاں بھی بڑھ رہی ہیں اور بعض امراء پر اور بعض صدران پر اتنا بڑا بوجھ پڑا ہے کہ بعض دفعہ وہ پریشان ہو جاتے ہیں اور بعض دفعہ را ہنمائی کے لئے مجھے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی کام اس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور جماعتی معاملات میں دلچسپی لینے والوں کی تعداد اس تیزی سے بڑھ رہی ہے اور پھر نئے نئے پروگرام بھی ملتے چلے جا رہے ہیں تو کس طرح ہم ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکیں گے۔صرف ملکی سطح ہی پر نہیں بلکہ ملک کے اندر مقامی سطح پر بعض احمد یوں پر جب ذمہ داری ڈالی جاتی ہے تو وہ اس ذمہ داری کے تقاضوں کے خیال سے لرزتے ہیں اور بڑے ہی انکسار اور لجاجت سے خط لکھتے ہیں کہ ہم کیسے اس اہم ذمہ داری کو ادا کر سکیں گے تو جہاں بیداری عام ہوتی چلی جارہی ہے وہیں بیداری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذمہ داریاں بھی ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہیں۔