تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 349 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 349

۳۴۹ ذیلی تنظیموں کے صدر اپنے اپنے ملک کے صدر مجلس ہوں گے پس آئندہ سے انشاء اللہ اس طریق پر کام ہو گا۔تبھی میں نے اس دفعہ ربوہ میں ہونے والے مرکزی اجتماعات کے موقعہ پر جو انتخاب ہوئے ، ان میں یہ واضح ہدایت بھیجی تھی کہ آپ اپنے اپنے ملک کا صدر کا انتخاب کریں اور وہاں عمد امرکزی کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔میں نہیں جانتا کہ ان کو میرا یہ پیغام سمجھ آیا یا نہیں۔لیکن ہدایت کے مطابق جو جو صدر بھی منتخب ہوئے ہیں وہ پاکستان کے صدران ہیں۔اور باقی دنیا کے تمام ذیلی تنظیموں کے آخری عہد یداران آج کے بعد صدر مجلس کہلائیں گے۔یعنی انگلستان میں صدر مجلس خدام الاحمدیہ انگلستان، صدر مجلس انصار الله انگلستان، صدر مجلس لجنہ اماءاللہ انگلستان ہو گا اور اسی طرح باقی دنیا کے ملکوں کا حال ہوگا۔اس سلسلے میں میں دعا کی بھی تحریک کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ جو قدم اٹھایا ہے یہ صرف لمبے مشوروں کے بعد نہیں بلکہ بہت لمبی دعا کے بعد اور بہت غور کے بعد اور تامل کے بعد اٹھایا ہے اور اس آخری شکل میں جب تک مجھے پوری طرح شرح صدر نصیب نہیں ہوا میں نے اس فیصلے کا اعلان نہیں کیا حالانکہ جلسے پر مشورہ دینے والے کہتے تھے کہ بالکل ٹھیک ہے۔در کار خیر حاجت پیچ استخارے نیست۔فوراً اعلان کر دیں لیکن میرے دل پر ابھی ایک بوجھ تھا کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے پوری فراست نصیب نہ ہو جائے اور پوری طرح شرح صدر نہ ملے اور دعاؤں کے ذریعے اس میں خیر طلب نہ کر لوں اس وقت تک یہ اعلان نہیں کرنا تو آپ سے یعنی ساری جماعت سے میری درخواست ہے کہ دعا کے ذریعے یہ بھی میری مدد کریں کہ اللہ تعالیٰ اس فیصلے کو درست اور بابرکت ثابت فرمائے اور کثرت کے ساتھ جماعت اس کی خیر کا پھل کھائے اور نظام جماعت تیزی کے ساتھ اپنی تکمیل کے وہ مراحل طے کرے جس کے بعد نظام کے ہر حصے کو غیر شعوری دماغ کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے اور نظامِ جماعت کا عرش بلند تر ہوتا چلا جائے گا۔یہی وہ نظام ہے کہ جس کے ذریعے ہم مزید رفعتیں حاصل کر سکتے ہیں۔“ اصل کیسٹ سے سُن کر لکھا گیا ہے۔مرتب ) ہر ملک کا جماعتی وصدارتی نظام غیر معمولی بیداری پیدا کر رہا ہے اللہ تعالیٰ نے حضور کے اس فیصلہ میں بے انتہاء برکت رکھی اور اس کے نتیجہ میں غیر معمولی بیداری پیدا ہوئی اور اس کے دیر پا اور خوشنما اثرات نظر آنے لگے۔اس طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ فرموده ۲۱ ستمبر ۱۹۹۵ ء ارشا د فرماتے ہیں :