تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 351
۳۵۱ اس پہلو سے میں نے سوچا کہ آج دو باتوں کی طرف تمام دنیا کے امراء کو بھی اور صدر ان کو بھی اور اسی طرح ان تمام عہدیداران کو متوجہ کروں جن دو باتوں پر نظام جماعت کا انحصار ہے اور اسی طرح باقی عہدیداران بھی اس نصیحت میں شامل ہیں۔اگر وہ ان باتوں کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر کے ان سے منسلک ہو جائیں گے، زندگی بھر ان باتوں سے چھٹے رہیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ ان کے سارے مسائل آسانی سے حل ہوں گے اور جماعت احمد یہ کے نظام کو چلانے کے متعلق کسی قسم کی بے وجہ کی فکر لاحق نہیں ہوگی۔ایک فکر تو وہ ہوتی ہے جو ہر ذمہ دار آدمی کو ذمہ داری کے ساتھ ہی لاحق ہو جاتی ہے۔اس کا تعلق تو اس کی زندگی سے ہے۔موت تک یہ فکر اس کو دامن گیر رہتی ہے اور ایک فکر وہ ہوتی ہے جو بدا انتظامی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔پس میں جس فکر کے دور ہونے کی خوشخبری دیتا ہوں وہ بدانتظامی کے دور ہونے کی فکر سے نجات کی خوشخبری دیتا ہوں، ذمے داری کے فکر سے نجات کی خوشخبری نہیں وہ اگر میں دوں تو ایک بری خبر ہوگی تو ہر عہدیدار اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک فکر میں تو مبتلا ہے اور زندگی بھر مبتلا رہے گا۔اس کا اس فکر میں مبتلا رہنا اس کی زندگی کی علامت ہے اور اس کے اس فکر کے بڑھنے کی دعا کرنی چاہئے ، کم ہونے کی نہیں۔لیکن جہاں کام کے بوجھ بڑھنے کے نتیجے میں خلا رہ جاتے ہیں اور عہدیداران کی تربیت کی کمی کی وجہ سے پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں وہ فکریں بہر حال دور ہونی چاہئیں اور ان کے دُور ہونے کے علاج بھی سوچتے رہنا چاہئے۔اور دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کی فکروں سے ہمارے تمام عہدیداران کو آزاد کرے۔امداد برائے کشمیر ١٩٩٠ء مجلس خدام الاحمدیہ کے ذریعہ بطور امداد برائے کشمیر انصار اللہ مرکزیہ نے ۳۰ جنوری ۱۹۹۰ء کو دس ہزار روپے ادا کئے۔مجلس انصاراللہ میں کمپیوٹر کا استعمال کمپیوٹر موجودہ زمانے کی ایک مفید ایجاد ہے اور اس سے کئی قسم کے کام لئے جاتے ہیں۔چنانچہ ان کاموں میں طباعت، کتابت، DATA جمع کر کے ان کو PROCESS کرنا، حساب کتاب رکھنا، پلاننگ، ڈیزائننگ ، ٹیلیفون پر پیغامات بھیجنا اور وصول کرنا ، ای میل (E-MAIL) اور انٹرنیٹ (INTERNET) رابطہ غرض انواع واقسام کے بے شمار کام ہیں جو کمپیوٹر کے ذریعے سے کئے جاسکتے ہیں۔مجلس انصار اللہ پاکستان کے دفاتر میں کمپیوٹر کا استعمال ۱۹۹۰ء میں شروع ہوا جبکہ سب سے پہلی دفعہ