تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 105
۱۰۵ تو میرے سامنے ایک فہرست میں تین بچے تھرڈ ڈویژن والے پیش کر دیئے گئے کہ بچے تھوڑے ہیں اس لئے تھرڈ ڈویژن والوں کو بھی داخل کرنے کی اجازت دے دیں۔میں نے اوپر تو نہیں لکھا اس کاغذ کے لیکن میرے ذہن میں یہ آیا کہ اگر ایک بھی نہ آتا اور یہ تین آتے تو میں کلاس جاری نہ کرتا۔ان تین بچوں کو میں نے نہیں لینا۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے فائدے کے لئے یہ حکم دیا کہ جس رکابی میں بال آیا ہو باریک تریر ، جو انگلی اگر پھیریں تو انگلی محسوس بھی نہیں کرے گی۔اس میں کھانا نہ کھاؤ۔کیونکہ وہاں بیکٹریا پرورش پاتا ہے اور انسان کو انفیکشن (INFECTION) یعنی بیماری ہو جائے گی۔خدا کے جس رسول نے آپ کا اتنا خیال رکھا، آپ اپنا ٹوٹا ہوا بیٹا اس کے حضور پیش کرنے کی کس طرح جرات کرتے ہیں۔تو اصل تو مجھے فرسٹ ڈویژن کے چاہئیں۔قرآن کی تعلیم کامل نمونہ ہے۔اس کے نقوش پر چلو دنیا میں اسلام کے حق میں ایک انقلاب بپا ہورہا ہے۔یہ انقلاب آپ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ صحیح اسلام اس کے سامنے پیش کیا جائے۔اسلام جس کے معنی ہیں حقوق انسانی کی ادائیگی کے خواہ وہ انسان دہریہ اور خدا کو گالیاں دینے والا ہی کیوں نہ ہو۔قرآن کریم نے ہر چیز کو کھول کے بیان کر دیا۔اسلامی تعلیم کا مطالبہ کرتا ہے یہ انقلاب۔میں جب پیش کرتا ہوں بعض دفعہ کہہ دیتا ہوں۔جو تعلیم پیش کر رہا ہوں تم میں جرات نہیں ہوگی کہ کہو کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں یا ہم یہ تسلیم نہیں کرتے۔کسی کو آج تک جرات نہیں ہوئی کہنے کی کہ نہیں یہ خراب ہے ، ہم نہیں مانتے۔اور قسم کے اعتراض کر جاتے ہیں۔یہ کہہ دیتے ہیں کہ کہاں کون سے مسلمان ان پر عمل کر رہے ہیں۔میں کہتا ہوں میں تمہارے پاس قرآن پیش کر رہا ہوں۔میں تمہارے سامنے نمونہ سوائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو پیش نہیں کرتا۔یہ قرآن ہے اس کی تعلیم دیکھو۔وہ نمونہ ہے کامل نمونہ۔اس کے نقوش پر چلو۔جو اس کے نقش قدم پر ٹھیک طرح چلا وہ ایک حد تک تمہارے لئے اسوہ بن گیا۔جو نہیں چلا وہ تمہارے لئے اسوہ نہیں ہے۔اس کی طرف کیوں دیکھتے ہو۔پس منظر کی ایک آدھ بات دوسری بھی میں نے تھوڑی سی بتا دی ہے۔لیکن میں نے بتایا ہے کہ یہ تو لمبا سلسلہ ہے۔میں نے ایک بار آپ سے پھر باتیں کرنی ہیں۔اس موقع پر میں اس کا کافی حصہ انصار اللہ کو اس موقع پر کچھ بتاؤں گا۔پھر خدام الاحمدیہ میں دو یا تین تقاریر ہیں۔یہ بھی نہیں میں کہہ سکتا۔اس میں میں بتاؤں گا۔انصار تو خدام الاحمدیہ میں نہیں آتے لیکن ہر ضلع اپنے پانچ دس نمائندے بھیجے جو ان کو جا کے بتائیں کہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں میں نے کیا کہا۔بہر حال وہ موجود رہنے