تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 104 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 104

۱۰۴ ہیں۔اچھے لوگ بھی ہیں۔بُرے لوگ بھی ہیں۔نہایت شریف لوگوں کا وہ علاقہ ہے اور تین منزلہ وہ مکان ہے اور بڑا اچھا بنا ہوا۔البتہ مرمت طلب تھا۔پر انا مکان تھا۔قریباً تمھیں پینتیس لاکھ کی اس کے لئے ضرورت پڑی تھی۔پچھلے سال خریدا گیا تھا اور اس سال میں نے اس کا افتتاح کیا ہے۔اور انگلستان ، ناروے، سویڈن، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ ان ملکوں میں اتنا پیسہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہم اس کی قیمت ادا کر دیں گے۔اور وہاں کے میئر مجھے کہنے لگے، آپ نے بڑا خرچ کر دیا۔میں نے کہا خرج تو بڑا نہیں کیونکہ ہماری ضرورت کے مطابق ہے۔کئی سواحمد ی تھا۔ان کے بچوں کی تربیت نہیں ہو رہی تھی۔نماز میں اکٹھے پڑھنے کا انتظام نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ کے انعامات جو بارش کی طرح برستے ہیں ان تک وہ انعامات پہنچتے نہیں تھے۔ان باتوں سے تقویت ایمان ہوتی ہے۔کوئی جگہ ہی نہیں تھی آپس میں مل بیٹھنے کی۔یہاں بھی آپ مساجد بنایا کریں کیونکہ جو گھروں میں پڑھتے ہیں نماز با جماعت بعض جب چھوٹی سی رنجش ہو جائے آپس میں تو ایک دوسرے کے گھر نماز پڑھنے کے لئے بھی نہیں آتے۔بڑی بُری بات ہے۔لیکن میں کہتا ہوں چھوٹی چھوٹی باتوں میں رنجش تو ہو ہی جاتی ہے انسان کی۔پھر بعد میں تو بہ کر لیتا ہے۔کیوں نہیں تم خدا کا گھر بناتے جس پر کسی انسان کا کوئی حق نہیں ، اللہ کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ نے کہا ہے ہر موحد جو خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنا چاہتا ہے، اس کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں چاہے وہ موحد ، عیسائیت میں جو موحدین کے فرقے ہیں ، اس سے تعلق رکھتا ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔انسان کا حق ہی نہیں کہ وہ دروازے بند کرے خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کے لئے کسی کے اوپر۔مساجد بنا ئیں۔جماعت کو ایثار پیشہ، ذہین مبلغین کی بہت زیادہ ضرورت ہے یہ جو حالات دیکھے اصولی طور پر اس سے ہمیں یہ تاثر ملا کہ جماعت کو ایثار پیشہ، ذہین مبلغین کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ذہن دیا ہے اور ایثار بھی دیا ہے۔اخلاص بھی دیا ہے لیکن ایثار اور اخلاص کے بعض پہلو پوری طرح ابھی چھکے نہیں۔پالش نہیں ہوئی انہیں۔پالش کریں ان کو۔بچے دیں جامعہ کے لئے لیکن ذہین بچے۔ایک وقت میں جس شخص کا بچہ بالکل جاہل ، خر دماغ ہوتا تھا اور میٹرک میں دو نمبر لے کے وہ پاس ہو جاتا تھا ، وہ خدا تعالیٰ پر احسان جتانے کے لئے آکے جامعہ میں داخل کر دیتا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی چھوڑ کے چلے گئے۔بڑی بدمزگیاں ہو گئیں۔اب میں نے یہ قانون بنایا ہے کہ اصل تو مجھے چاہئیں فرسٹ ڈویژن کے بچے لیکن سیکنڈ ڈویژن والوں کو ایک حد تک برداشت کر لیں گے۔تھرڈ ڈویژن والوں کو نہیں لیں گے۔اب اس سال بھی میں آیا ہوں