تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 52
۵۲ فِي كِتَبٍ مَّكْنُونٍ لا لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ، تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَلَمِینَ کہ ہر زمانہ میں ہر نسل کے لئے ، اس نسل کے نئے مسائل حل کرنے کی خاطر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والے خدا کی نگاہ میں جو مظہر ہوں گے، انہیں ایسی تفاسیر سکھائی جائیں گی اور یہ مطالعہ قرآن کریم کی عظمت ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہر بگڑے ہوئے ماحول میں جب انسان اپنے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جائے تو انسان کی مدد کے لئے خدا اور محمد کا قرآن ہی آتا رہا۔آتارہے گا (صلی اللہ علیہ وسلم ) پروگرام نمبر ۲۔یہ جو کہا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش آیاتِ باری سے بھری ہوئی ہے،اس میں یہ حکم پنہاں ہے کہ جن علوم کو دنیوی علوم کہا جاتا ہے جن کا تعلق افلاک سے ہے، کیمیا سے ہے، طبیعات سے ہے ، کھانے پینے کی اشیاء سے ہے، زراعت سے ہے، طب سے ہے وغیرہ وغیرہ۔اُن میں بھی خدا کی آیات نظر آتی ہیں اور انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے اور ان کا بھی ایک مسلمان کے لئے سیکھنا ضروری ہے۔اس لئے آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جماعت میری خواہش کا احترام کرتے ہوئے ، اپنی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اور دنیا پر احسان کرنے کی خاطر ،خدا اور رسول کی اطاعت میں دنیوی علوم بھی روحانی نور کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے سیکھنے کی کوشش کرے اور اس دس سال میں یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارا کوئی بچہ بھی میٹرک سے کم تعلیم کا نہ ہو۔اس کی ذمہ داری امرائے اضلاع پر ہے۔تنظیم انصار اللہ پر ہے۔تنظیم خدام الاحمدیہ پر ہے۔جماعت پر ہے۔پوری کوشش کریں کہ ہر احمدی بچہ کم از کم میٹرک تک پڑھ جائے دس سال کے اندر اندر۔اور پھر وہ بچے جب دسویں پاس کریں اور یہ پتہ لگے ہمیں کہ بعض بڑے ذہین ہیں تو ان کے آگے پڑھانے کا جماعت ذمہ لے ، وہ انتظام کرے تا کہ خدا تعالیٰ نے جو اتنا بڑا ہم پر احسان کیا کہ ہم غریبوں کے گھروں میں ذہین بچے پیدا کر دیئے اور ذہانت سے ہماری جھولیاں بھر دیں ، ہم ان سے بے اعتنائی کر کے ناشکرے نہ بننے والے ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے شکر گزار بندوں سے پیار کرتا اور وہ جوشکر نہیں کرتے اس کا ، غصے کی نگاہ ان پر ڈالتا ہے۔پروگرام کا تیسرا حصہ یہ ہے کہ جماعت احمد یہ بحیثیت جماعت اسلام کے حسین اخلاق پر قائم ہو اور اصلاح یافتہ معاشرہ اپنے ماحول میں پیدا کرنے کی کوشش کرے۔معاشرہ کی برائیوں سے خود کو محفوظ رکھنا اور معاشرہ کو برائیوں سے بچانا آپ کی ذمہ داری ہے۔اور آپ کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ جو کوئی