تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 53 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 53

۵۳ بھی معاشرہ کو برائیوں سے بچانے کی کوشش میں ہو، اس کو آپ کا پورا تعاون حاصل ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اخلاق کو کامل کرنے کے لئے بھی مبعوث ہوا ہوں۔اس وقت چند موٹی باتیں میں آپ کو بتا دوں۔(۱) کوئی احمدی جھوٹ نہیں بولتا (۲) کسی احمدی کو گالی دینے کی عادت نہیں ہونی چاہئے خصوصاً دیہاتی جماعتیں اس طرف متوجہ ہوں (۳) ہر احمدی اپنی بات کا پکا ہو۔جو عہد کرے وہ پورا کرے۔جو بات کہے اس کے مطابق اس کا عمل ہو۔اور (۴) یہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے جو رنجشیں پیدا ہو جاتی ہیں ، جماعت کے اندر یا باہر س قسم کی رنجشیں نہ پیدا ہونے دے(۵) کوئی احمدی اپنے احمدی بھائی سے، نہ دوسرے بھائیوں سے لڑائی جھگڑا نہیں کرے گا۔(۶) اگر ان میں باہمی کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو جہاں تک قانونِ ملکی اجازت دیتا ہو، اُس اختلاف کو جماعتی مصالحت کے ذریعہ سے دور کیا جائے اور آپس کی رنجشیں ہرگز پیدا نہ ہونے دی جائے اور نہ کوئی تلخی پیدا ہونے دی جائے۔(۷) کوشش کرو کہ پیار سے رہو (۸) کوشش کرو کہ پیار کے ساتھ دنیا کے دل خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتو۔اگر تم ایسا کرو گے تو خدا کے پیار کو حاصل کرلو گے۔اگر تم خدا کے پیار کو حاصل کر لو گے تو ہر دو جہان کی نعمتیں تمہیں مل جائیں گی۔پھر کسی اور چیز کی تمہیں ضرورت نہیں رہے گی۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔“ پھر حضور نے نمازوں کے بارہ میں اعلان فرمایا کہ کھانے سے قبل مسجد مبارک میں نماز ظہر وعصر ہوں گی۔اختتام پر صدر محترم نے حضور انور کی خدمت میں کوائف حاضری پیش کئے تو حضور نے فرمایا: امسال جو مجالس اس اجتماع میں شریک ہوئی ہیں ان کی تعداد ۶۷۲ ہے اور گذشتہ برس کے مقابلہ میں ۱۸۵ کی زیادتی ہے۔الحمد للہ۔مگر یہ بھی تسلی بخش نہیں۔سب جماعتوں کو یہاں آنا چاہئے۔نمائندے بھیج کر۔اب ہم عہد دہراتے ہیں۔﴿۲۳﴾ حضور کا یہ تاریخی خطاب گیارہ بج کر پچپن منٹ پر شروع ہوا اور پونے ایک بجے ختم ہوا۔حضور اقدس نے اختتام پر عہد دہرایا اور دعا کے بعد ا حباب کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ کر ایک بجنے میں دس منٹ پر رخصت ہو گئے۔اس طرح مجلس کا بائیسواں سالانہ اجتماع بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔﴿۲۴﴾ بعض اہم امور اس اجتماع میں ۸۳۷ مجالس میں سے ۶۷۲ مجالس شامل ہوئیں۔یہ تعداد گذشتہ برس کی نسبت ۱۸۵ زیادہ ہے۔حضور نے اس اضافے پر اظہار خوشنودی فرماتے ہوئے الحمد اللہ کہا نیز فرمایا کہ یہ بھی تسلی بخش نہیں۔سب جماعتوں کو نمائندے بھیج کر اجتماع میں شامل ہونا چاہیئے۔