تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 51 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 51

۵۱ انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ کا پروگرام آجاتا ہے اور اسی کا اس وقت میں اعلان کرنا چاہتا ہوں۔اعلان سے قبل یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہماری جماعتی زندگی کے سو سال پورے ہونے میں قریباً دس سال باقی ہیں اور میرے اس پروگرام کا تعلق ان دس سالوں سے ہے۔نمبرا۔)۔علوم روحانی کا سیکھنا، اس کے لئے پروگرام یہ ہے کہ عمر کے لحاظ سے ہر بچہ قاعدہ لیسرنا القرآن پڑھنے والا ہو۔جب میں ہر بچہ کہتا ہوں تو میری مراد ہر احمدی بچہ سے ہے خواہ وہ شہر میں رہنے والا ہو، خواہ وہ دیہات میں رہنے والا ہو، خواہ وہ بڑی جماعتوں کا ایک طفل ہو، خواہ وہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہو کہ جہاں صرف ایک ہی خاندان احمدی ہے۔جتنی جلد ممکن ہو سکے ، ہر بچے کو قاعدہ میسر نا القرآن پڑھا دیا جائے۔ب۔یہ علوم روحانی اور علوم قرآنی کے سیکھنے کے عنوان کے نیچے ب نمبر ا یہ ہے کہ عمر کے لحاظ سے ہر طفل، ہر خادم، ہر نیا احمدی، ہر پرانا غافل احمدی قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کی طرف متوجہ ہو۔اور ب نمبر ۲ یہ ہے کہ جو قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں، وہ قرآن کریم کے معانی اس کی تفسیر پڑھنے کی طرف متوجہ ہوں۔جب ہم نے یہ کہا کہ ایک سچا مومن اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کرتا ہے تو وہ شخص جو یہ جانتا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ حکم کیا دیتا ہے، وہ اس کی کامل اطاعت کیسے کر سکے گا؟ دوسرے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کیسے کر سکے گا جنہوں نے دنیا میں یہ اعلان کیا۔إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى اِلَی کہ جو وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوئی ہے میں صرف اُسی کی اتباع کرنے والے ہوں۔تفسیر قرآن سیکھنے کے لئے ( یہ بات ضروری ہے کہ معلم حقیقی اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود جوتفسیر سکھائی ہمیں اس کا علم ہو۔پس سارے تو نہیں ( میں سمجھتا ہوں سارے نہیں سیکھ سکتے ) مگر کثرت سے جماعت احمدیہ میں ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو اُن کتب حدیث کو پڑھنے اور جاننے والے ہوں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی تفسیر پائی جاتی ہے اور اپنی اس ذمہ داری کو سمجھنے والے ہوں کہ وہ اس پیاری تغیر کو ہر احمدی کے کان تک پہنچائیں گے۔اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تفسیر کی۔یعنی دو تفسیر میں ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ نے سکھائی خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔اور دوسری وہ تفسیر ہے جو محمد رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نور کے نتیجہ میں خود کی۔پھر اس کے بعد وہ تفاسیر ہیں جو چودہ سو سال پر پھیلی ہوئی ہیں اور چودہ سوسال میں پیدا ہونے والے نئے مسائل کو حل کرتی ہیں۔اس وعدہ کے مطابق کہ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمة