تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 222
۲۲۲ دیئے ہیں اور انسان میں ایسی صلاحیتیں پیدا کر دی ہیں کہ وہ خدا کا رنگ اپنے اوپر چڑھا سکے۔سوم یہ کہ اللہ کی ذات وصفات میں کوئی تضاد نہیں۔یہ کائنات اللہ کی ذات وصفات کی مظہر ہے۔ہر چیز خدا کی پاکیزگی بیان کرتی ہے اور اس لحاظ سے سارے عالمین کی ہر چیز انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ساری کائنات میں ایک مکمل توازن اور میزان قائم ہے۔صرف اور صرف خدا کی واحد ذات ہے جو ہر چیز پر اثر ڈالتی ہے لیکن اور کوئی چیز اُس کی ذات پر انٹر نہیں ڈال سکتی۔چہارم یہ کہ انسان اپنی ہر ضرورت خدا تعالیٰ سے طلب کرتا ہے۔فطرتِ انسانی میں یہ ہے کہ خدا سے طلب کرے اور حقیقت کائنات یہ ہے کہ صرف خدا دینے والا ہے اور اس وقت تک لطف نہیں آ سکتا جب تک دینے والا خدا نہ ہو اور لینے والا انسان نہ ہو۔حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں جو یہ چاروں باتیں ہیں۔ہماری جماعت کی ذیلی تنظیموں خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ اور ساری جماعت کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اسے بھول کر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔اے چنانچہ حضور نے فرمایا: ﴿21﴾ اللہ تعالیٰ کی صفت الحی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت الحق ہے۔یعنی اپنی ذات میں زندہ اور ہر قسم کی زندگی اور حیات بخشے والا۔ایک قسم یہ ہے کہ وہ انصار اللہ میں زندگی کے آثار بڑھاتا چلا جارہا ہے۔پچھلے سال انصار اللہ کی جو مجالس اس اجتماع میں شامل ہوئیں، ان کی تعداد سات سو پچپن اور جو نمائندگان آئے ان کی تعداد گیارہ سو بیاسی تھی۔سال رواں میں جو مجالس شامل ہوئی ہیں ، ان کی تعداد آٹھ سو بیایسیعنی ستاسی زیادہ اور نمائندگان تیرہ سو پانچ یعنی ایک سو تمھیں زیادہ۔یہ آٹھ سو بیالیس مجالس شامل ہوئی ہیں اور کل مجالس نوسو چھتی ہیں۔تو جو رہ گئی ہیں، ان کو اپنی فکر کرنی چاہئے اور ہمیں ان کی بہت فکر کرنی چاہئے۔کل میں اس آج کی تقریر کے متعلق سوچ رہا تھا کہ کسی مضمون پر میں کچھ کہوں تو ایک بہت وسیع مضمون اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا۔اتنا وسیع کہ مجھے بڑی کوشش کر کے سمیٹنا پڑا۔اور بنیادی چار باتیں میں نے اس مضمون میں سے اٹھائی ہیں اور وہ مضمون تھا تَخَلَّفُوا بِأَخْلاقِ اللَّهِ الله تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنی زندگی میں پیدا کرو۔یہ بہت بڑا مضمون ہے۔بنیادی طور پر خدا تعالیٰ کی صفات دو پہلو رکھتی ہیں۔ایک تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا کہ وہ السُّبُوحُ ہے۔عربی میں اس کا تلفظ دونوں طرح ہے ”س“ کی زبر کے ساتھ بھی اور پیش کے ساتھ بھی۔اور الْقُدُّوسُ ہے۔لغت میں ہے کہ اَلسُّبُوحُ اور الْقُدُّوسُ ساری عربی زبان اس