تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 223
۲۲۳ شکل میں صرف دو لفظ اپنے اندر رکھتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے بار بار توجہ ہمیں دلائی کہ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ الْاَرْضِ (الحشر آیت (۲۵) اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔پاک اور منزہ ہے ہر عیب سے۔اور مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب اس کی پاکیزگی کے ترانے گاتے ہیں۔دوسری بنیادی بات اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق قرآنی تعلیم میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اور اس کو اپنی ذات اور صفات اور محامد میں من کل الوجوہ کمال حاصل ہے۔تیسری بنیادی تعلیم خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق قرآن کریم میں یہ دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں تضاد نہیں پایا جاتا۔اور اس کا ذکر سورۃ الملک میں بھی ہے جہاں کہا گیا ہے کہ تمہیں کوئی تفاوت اور فتور نظر نہیں آئے گا۔کوئی ایک چیز ایسی نہیں سارے عالمین میں،اس یونیورس (UNIVERSE) میں، اس کائنات میں کہ جو انسان کی خدمت کرنے سے انکار کرے۔ہر لحاظ سے تضاد سے پاک اور اختلال اور وہن، کمزوری سے پاک۔یعنی نہ اس میں کوئی تضاد ہے اور نہ کوئی کمزوری۔یہ جو تضاد نہیں بلکہ ہر چیز ایک دوسرے کی پیدائش کی جو حکمت ہے،اس کے ساتھ تعاون کرنے والی ہے۔اس سے آگے ایک اور چیز نکلی کہ اس ساری کائنات میں ” میزان“ اور ” توازن پایا جاتا ہے۔یہ بڑا عجیب اصول ہے قرآن کریم میں وَضَعَ الْمِيزَانَ ( الرحمن آیت : ۸ ) یعنی ساری کائنات میں تضاد نہیں، میزان ہے اور جوریسرچ اب ہو رہی ہے نئی سے نئی ، وہ اس حقیقت کا ملہ کو جو قرآن کریم نے بیان کی ہے، سچا ثابت کر رہی ہے۔توازن کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں ، عالمین میں کامل نسبتیں قائم ہیں۔“ ہر چیز خدا سے مدد مانگتی ہے ’ اور چوتھی بنیادی چیز خدا تعالیٰ کی صفات میں یہ ہے کہ ہر چیز اور اسی طرح انسان صرف خدا تعالیٰ سے اپنی ضرورتیں طلب کرتا ہے۔۔۔۔یہ جو اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں ان کی بنیادی باتیں جو ہمیں قرآن کریم سے معلوم ہوئیں، ان میں سے میں نے چار اٹھا ئیں۔اب ہماری اپنی زندگی ، جماعت احمدیہ کی زندگی جو بٹی ہوئی ہے جماعت احمدیہ کی تنظیم اور ذیلی تنظیموں میں۔انصار اللہ ہے ، لجنہ ہے ، خدام الاحمدیہ ہے۔پھر خدام الاحمدیہ کے ساتھ اطفال لگے ہوئے ہیں۔لجنہ کے ساتھ ناصرات لگی ہوئی ہیں۔ہماری زندگی پر یہ