تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 193
۱۹۳ نائب صدر صف دوم کے عہدوں کے لئے جو نام تجویز ہو کر آئے وہ مجالس کو بھجوائے گئے تا کہ نمائندگان اپنی اپنی مجالس کی رائے کے مطابق ووٹ دے سکیں۔اس کے بعد صدر مجلس کے لئے نام پیش کئے گئے جن پر رائے لی گئی۔نمائندگان نے بھاری اکثریت سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے حق میں سفارش کی۔نائب صد رصف دوم کے بارہ میں بتایا گیا کہ مجالس کی طرف سے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ایم اے کے نام تجویز ہو کر آئے تھے لیکن مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کی عمر ۴۷ سال سے تجاوز کر چکی ہے اس لئے قواعد انتخاب کے مطابق ان کا نام تجویز نہیں کیا جاسکتا لہذا اب صرف مکرم صاحبزادہ صاحب موصوف کا نام ہی پیش کیا جاتا ہے۔تمام نمائندگان نے متفقہ طور پر مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کے حق میں رائے دی۔انتخاب کی کارروائی مکمل ہونے پر صدر صاحب خدام الاحمدیہ مرکز یہ شوریٰ کی سفارشات حضور کی خدمت اقدس میں پیش کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔بعد میں ابھی شوریٰ کا اجلاس جاری ہی تھا کہ دو بجے بعد دو پہر مکرم محمود احمد صاحب نے سٹیج پر تشریف لا کر اعلان کیا کہ حضور انور نے شوری کی سفارشات کومنظور فرمالیا ہے لہذا آئندہ تین سال کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر اور مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ایم اے نائب صدر صف دوم ہوں گے۔دستور اساسی میں تبدیلیاں بعدہ ایجنڈا کی تجویز نمبر ۲ زیر غور آئی جو مجلس انصار اللہ رجوعہ ضلع جھنگ کی طرف سے ان الفاظ میں تھی۔”دستور اساسی میں بعض سقم اور تضاد معلوم ہوتے ہیں جن کو دور کرنے کے لئے تجویز ہے کہ مجلس شوری انصار اللہ ماہرین دستور سازی اور اردو دان حضرات پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرے جو دستور اساسی کو از سرنو تر تیب دے کر مجلس عاملہ مرکز یہ میں پیش کرے۔“ اس تجویز پر بحث شروع کرتے ہوئے مجلس رجوعہ کے زعیم مکرم عبدالسمیع حسنی صاحب نے کہا کہ اس سلسلہ میں پچھلے سال جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کی کارگزاری رپورٹ پہلے پیش ہونی چاہئیے۔چنانچہ صدر محترم کے ارشاد پر مذکورہ کمیٹی کے صدر کرم چوہدری حمید اللہ صاحب نے بتایا کہ اس کمیٹی کا دائرہ کار دستور اساسی کی صرف ایک شق یعنی قاعدہ نمبر ۱۶۵ پر غور کرنے تک محدود تھا نہ کہ پورے دستور اساسی پر۔دوران بحث حضرت مرزا عبدالحق صاحب سرگودھا نے یہ رائے دی کہ اس تجویز میں ماہر دستور سازی اور اردو دان“ کے الفاظ موزوں نہیں لہذا انہیں حذف کر دیا جائے۔صدر محترم نے بھی اس سے اتفاق کیا اور ترمیم پیش کرنے کا ارشاد فرمایا۔ازاں بعد صدر محترم نے اس تجویز اور مجوزہ ترمیم پر نمائندگان کو اظہار خیال کا موقع دیا چنانچہ مکرم 66