تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 192 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 192

۱۹۲ اجلاس شوری ۳۱۔اکتوبر ۱۹۸ ء بروز ہفتہ گیارہ بجے قبل دو پہر صدر محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی صدارت میں شوریٰ انصار اللہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔وَسِعُ مَكَانَگ کا روح پرور نظاره کارروائی کے آغاز سے قبل تمام نمائندگان کو ضلع وار نظام کے تحت بٹھانے کا انتظام کیا گیا۔مقام اجتماع میں رسیوں کے حلقے بنا کر نمائندگان کے لئے جگہ مخصوص کر دی گئی تھی مگر چونکہ نمائندگان گزشتہ سال کی نسبت بہت زیادہ تعداد میں تشریف لائے تھے، اس لئے انہیں بہت تھوڑی جگہ میں سمٹ کر بیٹھنا پڑا۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جو کہ مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب قائد تحریک جدید نے کی۔تلاوت کے بعد انصار نے کھڑے ہو کر عہد دہرایا۔پھر صدر محترم نے فرمایا کہ نمائندگان کرام کو جگہ کی جو تنگی محسوس ہورہی ہے، وہ شکوہ کی جگہ نہیں بلکہ شکر کا مقام ہے کہ حضور کی مبارک تحریک پر نمائندگان اتنی بڑی تعداد میں تشریف لائے ہیں کہ وسیع انتظامات کے باوجود جگہ کی تنگی پھر بھی محسوس ہو رہی ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل واحسان ہے جس پر ہم اس کا جتنا بھی شکر کریں، کم ہے۔اس موقع پر صدر محترم نے منتظم صاحب شوری کو ہدایت فرمائی کہ حلقہ شوری کو وسیع کر دیا جائے تا کہ تمام نمائندگان کو آرام سے بیٹھنے کے لئے جگہ مل سکے۔صدر محترم کے ارشاد کی فور التعمیل کی گئی۔(۶۵) انتخاب صدر و نا ئب صدر صف دوم ایجنڈا کے مطابق سب سے پہلے مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے صدر اور نائب صدرصف دوم کا انتخاب ہونا تھا۔یہ انتخاب حضور انور کے نامزد نمائندہ کی صدارت میں ہونا تھا لہذا صدر محترم نے اعلان فرمایا کہ ایجنڈا کی پہلی شق پر اب قائد صاحب عمومی کارروائی کریں گے۔حضرت صاحبزادہ صاحب سٹیج سے اتر کر حلقہ شوری سے بھی باہر تشریف لے گئے تا کہ انتخاب کی کارروائی ان کی عدم موجودگی میں تکمیل پائے۔قائد عمومی مکرم پر و فیسر منور شمیم خالد صاحب نے نمائندگان کو آگاہ کیا کہ انتخاب کروانے کے لئے حضور انور نے مکرم محمود احمد صاحب شاہد صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کو اپنا نمائندہ نامزدفرمایا ہے ، وہ سٹیج پر تشریف لا کر اجلاس کی صدارت کریں گے اور اگلے تین سال کے لئے صدر اور نائب صدر صف دوم کا انتخاب کروائیں گے۔مکرم محمود احمد صاحب شاہد کے سٹیج پر آنے کے بعد ان کی صدارت میں کارروائی شروع ہوئی۔مکرم قائد صاحب عمومی نے مجلس شوری کو بتایا کہ دستور اساسی کے مطابق مجالس سے صدر اور