تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 194 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 194

۱۹۴ شیخ رحمت اللہ صاحب کراچی ، مکرم راجہ نذیر احمد ظفر صاحب ربوہ ، مکرم بشیر الدین کمال صاحب راولپنڈی اور مکرم شیخ عبدالمنان صاحب راولپنڈی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور حضرت مرزا عبدالحق صاحب کی مجوزہ ترمیم کو منظور کرنے کا مشورہ دیا جس سے نمائندگان نے بھی اتفاق کیا۔چنانچہ اس کے بعد تجویز کے الفاظ یوں ہو گئے۔”دستور اساسی پر دوبارہ تفصیلی غور کرنے کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی جائے۔اگر اس میں کوئی سقم یا اشکال ہوں تو ان کو دور کیا جاسکے۔“ صدر محترم نے نمائندگان سے یہ مشورہ لیا کہ آیا کمیٹی کی سفارشات دوبارہ شوری میں پیش ہوں یا مجلس عاملہ مرکزیہ کی وساطت سے ہی آخری منظوری کے لئے حضور کی خدمت اقدس میں پیش کی جائیں۔اس سلسلہ میں مکرم راجہ نذیر احمد صاحب ظفر ربوه، مکرم شیخ مبارک محمود صاحب پانی پتی لاہور، مکرم چوہدری نعمت اللہ صاحب حیدر آباد، مکرم عبدالسمیع حسنی صاحب رجوعہ، مکرم ڈاکٹر احمد حسن صاحب گجرات ، مکرم چوہدری غلام دستگیر صاحب فیصل آباد، مکرم چوہدری محمد اسحاق صاحب لاہور اور مکرم خلیق عالم فاروقی صاحب کراچی نے باری باری اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات سے اتفاق کیا کہ اس پر غور کرنے کے لئے کمیٹی مقرر ہومگر اس تجویز کے آخری حصہ پر رائے لینے کے لئے یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا کمیٹی کی سفارشات مجلس عاملہ مرکزیہ کی وساطت سے حضور کی خدمت میں منظوری کے لئے پیش ہوں یا مجلس شوری کی وساطت سے۔نمائندگان کی بھاری اکثریت نے اس بات کے حق میں رائے دی کہ کمیٹی کی سفارشات پر مجلس عاملہ مرکز یہ غور کر کے اپنی سفارشات آخری منظوری کے لئے حضور کی خدمت میں پیش کرے۔ازاں بعد کمیٹی کی تشکیل کا مرحلہ پیش آیا۔مکرم ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب ربوہ کی تجویز پر نمائندگان کی بھاری اکثریت کی رائے کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا کہ صدر محترم خود مناسب اور موزوں افراد پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر فرما ئیں جو اپنی سفارشات مجلس عاملہ مرکز یہ کو پیش کرے۔اس کمیٹی کے ممبران کی تعداد کے بارہ میں فیصلہ صدر محترم کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا۔صدر محترم نے فرمایا کہ ناظمین اضلاع اور انفرادی طور پر نمائندگان شوریٰ بھی اس بارہ میں مجھے بذریعہ خطوط ایک ماہ کے اندر اندر مشورہ دیں کہ اُن کے علاقوں کے ایسے کون کون سے انصار ہیں جنہیں اس کمیٹی کا ممبر بنا چاہیئے۔پھر ایک مناسب حال کمیٹی کا اعلان کر دیا جائے گا۔زعیم اعلیٰ کا انتخاب: سب کمیٹی نے دستور اساسی کی شق نمبر ۱۶۵ کو اس شکل میں منظور کرنے کی سفارش کی۔عیم اعلیٰ کا انتخاب مرکزی نمائندہ یا ناظم ضلع یا پریذیڈنٹ یا اُن کے نمائندے کی نگرانی میں ہوگا۔اور بقیہ حصہ حسب سابق رہنے دیا جائے۔دوران بحث مندرجہ ذیل نمائندگان نے اپنی آراء پیش کیں۔مکرم چوہدری محمد اسحاق صاحب لاہور، مکرم بشیر الدین کمال صاحب راولپنڈی ، کرم صوبیدار صوفی رحیم بخش صاحب لاہور، مکرم شیخ مبارک محمود صاحب