تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 134 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 134

۱۳۴ صدر محترم کا خط نائب صدر ان ممالک کے نام نائب صدر صاحب کے مجوزہ دورہ سے قبل صدر محترم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے متعلقہ ممالک کے نائب صدران کو ایک تفصیلی خط تحریر فرمایا۔اس میں صدر محترم نے دورہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی اہمیت واضح فرمائی۔دورہ سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھانے کے لئے نہایت باریکی سے ہدایات دیں اور بعض اہم فیصلے بھی سپرد قلم فرمائے۔یہ خط بیرونی مجالس کے احیائے نو میں بنیادی لائحہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔صدر محترم کا یہ خط یہاں درج کیا جاتا ہے: کچھ عرصہ سے شدت سے یہ ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ پاکستان کی طرح دوسرے ممالک میں بھی مجلس انصار اللہ کو ایک فعال تنظیم کے طور پر منظم کیا جائے۔(۱) دستور کے مطابق عہدیداران کا تقرر ہو۔(۲) پاکستان کی مجالس کے لئے مقررہ لائحہ عمل میں سے مختلف ممالک کے حالات کے مطابق منتخب کر کے ممالک بیرون کی مجالس کے لئے لائحہ عمل تجویز کیا جائے۔(۳) پاکستانی مجالس کی طرح ممالک بیرون کی مجالس بھی اپنی ماہانہ رپورٹ مرکز میں بھجوائیں اور علم انعامی کے مقابلہ میں شریک ہوں۔(۴) مرکزی اجتماعات جیسے اہم مواقع پر مجالس بیرون بھی اپنے نمائندگان مرکز میں بھجوایا کریں تا مرکز کے ساتھ اُن کا تعلق اور زیادہ مضبوط اور پختہ ہو جائے اسی طرح (۵) بیرونی مجالس کے انصار مجلس انصار اللہ کے چندہ جات حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظور کردہ شرح کے مطابق ادا کریں اور انصار اللہ کی دوسری مالی تحریکات۔چندہ تعمیر گیسٹ ہاؤس و دفتر تعمیر دفتر وغیرہ میں حصہ لیں۔(۶) مجلس مرکز یہ کے آرگن ماہنامہ انصار اللہ کی اشاعت کو بیرون پاکستان بھی وسیع کیا جائے تا اس ذریعہ سے بھی مرکز کی آواز اراکین اور مجالس تک پہنچتی رہے اسی طرح یہ کہ بیرونی ممالک کی مجالس کی بیداری کے لئے دوسرے ضروری اقدام کئے جائیں۔چنانچہ خاکسار کی درخواست پر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس بات کی منظوری مرحمت فرمائی ہے کہ امسال چوہدری حمید اللہ صاحب نائب صدر مجلس انصار اللہ مرکز به بعض بیرونی ممالک کی مجالس النصار اللہ کا دورہ کریں اور مجالس کی بیداری کے لئے سعی کریں اور اس کی روشنی میں ان کے دورہ کا تفصیلی معین پروگرام بنا کرخاکسار کو جلد از جلد بھجوا دیں۔مکرم نائب صدر مجلس مرکزیہ کے قیام کے دوران مجالس عاملہ کے اجلاسات بلائے جائیں نیز انصار کا اجلاس عام بھی رکھا جائے۔جہاں اجلاس عام بلانے میں دقت ہو وہاں حتی المقدور انفرادی ملاقات کا انتظام کیا جائے۔اور جہاں اجلاس ممکن ہو لیکن بعض دوستوں کا پہنچنا ممکن نہ ہو وہاں بھی اس کمی کو انفرادی ملاقات کے ذریعہ پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔