تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 37 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 37

۳۷ محمد مصطفے " کا وجود تھا۔آپ نے کلیۂ بے نفس ہو کر حقیقت میں اس معنے کے آخری مقام تک پہنچ کر ہمیشہ تمام صفات حمد خدا ہی کی طرف منسوب فرمائیں۔اشارہ یا کنایہ حضور نے کبھی بھی خدا کے سوا کسی اور کی حمد نہیں کی ، نہ حمد کے قابل کسی کو سمجھا۔اس پہلو سے آپ احمد قرار پائے۔حمد کو خوب سمجھ کر سب سے زیادہ اپنے رب کی حمد کرنے والا۔اور چونکہ اس کا طبعی نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ حمد کے قابل ذات بھی وہی بنتی ہے جو اس مقام کو حاصل کرتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی سب سے زیادہ حمد فرمائی اور محمد آن معنوں میں آپ قرار پائے کہ خدا کے نزدیک آپ سب سے زیادہ حمد کے قابل ہیں۔پس سارے عالم کا وجود بیچ میں سے مٹ جاتا ہے۔خدا اور اس کے کامل بندے کے درمیان کسی انسان کی زبان اور تعریف کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔یہاں اوّل اوّل معنے اس کے یہ ہیں کہ خدا کی سب سے زیادہ تعریف کرنے والا محمد مصطفے " تھا۔سب سے زیادہ بچی تعریف کرنے والا وہی تھا اور سب سے زیادہ کامل تعریف کرنے والا وہی تھا۔سب سے زیادہ مخلصانہ تعریف کرنے والا وہی تھا اور ہر جگہ یہ تعریف خدا کی طرف سے اس پر لوٹائی گئی۔اور سب سے زیادہ اللہ نے اس کی حمد بیان فرمائی۔پس ہم جو تعریف کرتے ہیں وہ تابع کی حیثیت سے کرتے ہیں۔لیکن ہماری حمد نہ ہو اس کے کوئی معنے نہیں۔وہ اپنی ذات میں محمد ہے اور وہ مستغنی ہے اس بات سے کہ کوئی اس کی حمد بیان کرتا ہے یا نہیں کرتا۔پس حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام کسی بھی مقام پر ہو، اس راز کو سجھے بغیر کوئی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتا۔تمام کارکنان مجلس انصار اللہ اپنے نفس کو خوب ٹولتے رہیں اور ہمیشہ ٹولتے رہیں۔جہاں نفسانیت کے کیڑے کا ادنی سا بھی دخل پائیں ، بڑی بے رحمی کے ساتھ کاٹ کر پھینک دیں جس طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ظالم لنفسم۔ان معنوں میں اپنے نفس کی بقاء کی خاطر آپ کو اس کے لیئے ظالم ہونا پڑے گا۔سب سے کم رحم اپنے نفس پر کریں۔تربیت رحمت کا تقاضا کرتی ہے دوسرا پہلو یہ ہے کہ جہاں تک غیر کا تعلق ہے اس کا جس کی آپ نے تربیت کی ہے، اس کے لئے آپ نے ظالم نہیں بننا۔اس کے لئے رحیم و کریم بنتا ہے۔بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ کا رنگ پکڑنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اختیار فرمانا ہے آپ نے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نفس کے بارے میں سب سے زیادہ ظالم تھے ان معنوں میں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا - دیکھو شریعت کا ملہ کو اٹھانے والا محمد مصطفے۔اس کی شان دیکھو۔سب سے زیادہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا تھا۔پس ان معنوں میں آپ ظالم