تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 36
۳۶ صاحب تجربہ ہیں، وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ جب تک انسان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس ہدایت کے مطابق کہ جس طرح پان کھانے والا پان کو پلٹتا رہتا ہے اور اس میں سے گندے حصوں کو کاٹ کاٹ کے پھینکتا رہتا ہے۔جب تک متقی اپنے ایمان اور نیتوں کے بارے میں وہ سلوک نہیں کرتا، وہ محفوظ نہیں۔اہل تجر بہ جانتے ہیں کہ یہ بالکل حقیقت ہے۔ایسی پاکیزہ زبان میں سچائی کا راز بیان کیا گیا ہے کہ اس کو بھلانے کے نتیجہ میں بڑے بڑے اچھے کارکن بعض دفعہ اپنے اعمال کے پھلوں سے محروم رہ جاتے ہیں یا بعض دفعہ زیادہ نقصان اٹھا جاتے ہیں۔اس کی چابی سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت میں رکھ دی گئی ہے یعنی اس اصول کی چابی ، اور وہ اس آیت کے بے شمار معانی میں سے ایک معنی ہے جس کو میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ کا عظیم الشان مفہوم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الْحَمْدُ لِله - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو علم و عرفان کے خزانے بہائے ہیں ، ان کی خوشہ چینی کرتے ہوئے ایک نکتہ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو اس مضمون سے تعلق والا ہے۔الحمد للہ کا ایک مطلب یہ ہے کہ صرف خدا ہی ہے کہ وہ جو کسی کی حمد کرے تو وہ کچی حمد ہوگی۔لیکن جو معنے عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ حمد تو صرف خدا ہی کی ہے۔باقی تو حمد کے قابل کوئی نہیں۔اس عام فہم معنی کی رُو سے گفتگو کریں تو ایک کارکن کے دماغ میں ہمیشہ یہ بات رہنی چاہئیے کہ جو کچھ بھی وہ کرے حمد کے قابل صرف خدا کی ذات ہے اور اگر کوئی اچھا فعل اس سے رونما ہوا ہے تو محض اس بناء پر ہوا ہے کہ صاحب حمد خدا سے اس کا کچھ تعلق قائم ہے۔اسی کے صدقے اور اسی کے طفیل اسے تو فیق ملی ہے کہ قابل حمد کام اس نے کیا۔دوسرے معنی جو میں نے پہلے بیان کئے ، اس میں راز یہ ہے کہ انسان کی تعریف کے کوئی بھی معنے نہیں ہیں۔انسان اگر کسی ایسے شخص کی تعریف کرتا ہے جس سے بظاہر اچھے نیک نتائج نکل رہے ہیں تو جس کی تعریف ہو رہی ہے، اسے ہمیشہ یہ لوظ رکھنا چاہیئے کہ اس تعریف کی کوئی قیمت نہیں جب تک خدا کی تصدیق اور تائید اس تعریف کو حاصل نہ ہو جائے۔کیونکہ الحمد للہ۔خدا کے سوا کسی اور کی حمد کی کوئی قیمت نہیں۔تعریف کرنا اور اس بات کو سمجھنا کہ کون کس حد تک تعریف کے قابل ہے، یہ صرف اللہ کا کام ہے۔اس کی عملی تفسیر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے رب سے تعلق کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔حضور کے دو نام ہیں۔دونوں میں حمد کے الفاظ شامل ہیں۔ایک احمد ہے۔الْحَمْدُ لِلهِ۔ان معنوں میں کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔اس مضمون کو سب سے زیادہ سمجھنے والا حضرت