تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 38 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 38

۳۸ بنیں۔لیکن جہاں تک غیر کا تعلق ہے بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ آپ کو ہونا پڑے گا۔رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ہونا پڑے گا کیونکہ تربیت تختی کو نہیں چاہتی۔تربیت ،محبت اور عشق کا تقاضا کرتی ہے، تربیت رحمت کا تقاضا کرتی ہے۔تربیت تقاضا کرتی ہے کہ ماں سے زیادہ پیار کرنے والا اور محبت کرنے والا آپ بنیں۔اگر آپ یہ نہ بن سکیں ، اُسی حد تک آپ کی باتیں بریکار اور ا کارت جائیں گی۔اس ضمن میں میں ایک خاص بات اپنے انصار بھائیوں کی خدمت میں یہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ جب کوئی شخص آپ کی بات نہیں مانتا۔اس وقت آپ اپنے رد عمل کا جائزہ لیا کریں۔کیا وہ بات غصہ پیدا کر رہی ہے یا رحم پیدا کر رہی ہے۔جب بھی ایک نصیحت کرنے والے کی نصیحت پر عمل نہیں کیا جاتا اور نصیحت کرنے والا غصہ اور نفرت محسوس کرتا ہے تو وہ سمجھ لے کہ اس کی سڑک بدل چکی ہے۔وہ ناصحین کی سڑک چھوڑ بیٹھا ہے۔غضب آپ کا کام نہیں ہے۔نصیحت نہ ماننے والے پر آپ کا کام ہے دکھ محسوس کرنا جو رحمت کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اشد ترین دشمنوں کے لئے بھی یہ معلوم کرنے کے بعد اور اللہ سے یہ خبر پانے کے بعد کہ دشمن ہلاک ہونے والے ہیں کیا محسوس فرمایا؟ غصہ اور نفرت؟ اور یہ کہ جائیں جہنم میں مجھے کوئی پرواہ نہیں۔میں نے جو کچھ کرنا تھا کر لیا۔ہرگز نہیں۔جو محسوس فرمایا اس کی کیفیت کا میں اور آپ ادنے اور ذلیل انسان تصور بھی نہیں کر سکتے۔ہاں اللہ جانتا ہے کہ اس نے یہ گواہی دی قرآن کریم میں فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا۔اے محمد مصطفے ! اے میرے محبوب! کیا تو نے ان لوگوں کی خاطر جن کو میں نے ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔جن کی کوئی قیمت نہیں ہے۔تیرے انکار کی بناء پر یہ ہلاک ہورہے ہیں، اتنا دکھ محسوس کر رہا ہے کہ گویا غم سے اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا۔یہ وہ مقام ہے إنْ نَفَعَتِ الذِّكرى كا- فَذَكِّرُ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّرُ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرِ کا مقام ہے۔مُذَكَّر کے لئے رحیم ہونا ضروری ہے اور آپ یہ خوب سمجھ لیجئے کہ رحمت کا رد عمل یقیناً محبت اور عشق کے نتیجہ میں ظاہر ہوتا ہے۔بیچ غلطی کرتا ہے تو اں یہ نہیں کہا کرتی کہ جائے جہنم میں۔اس کا دل تو کٹ جایا کرتا ہے۔شریکے والا یا دشمن غلطی کرے تو وہ کہتی ہے اچھا ہوا مار کھائے گا۔اس لئے آپ شریکے کے طور پر نہیں پیدا کیے گئے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی کا دعویٰ لے کے اُٹھے ہیں اور اس حیثیت سے آپ نے نصیحت کرنی ہے اور جماعت کی تربیت کرنی ہے۔پس اگر کوئی شخص آپ کی بات نہیں مانتا تو یہ نہ سوچا کریں کہ اس نے حکم عدولی کی ہے۔اس لئے اب میں اسے سزا دلوا کے چھوڑوں گا ورنہ میرا دل ٹھنڈا نہیں ہو گا۔آپ کا دل تب