تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 416
مولانا شیخ مبارک احمد صاحب امام مسجد لندن نے بخاری شریف کی پہلی حدیث إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کی تشریح کی۔آپ نے تہجد میں خصوصی طور پر دعائیں کرنے کی تلقین فرمائی۔مکرم ہدایت اللہ بنگوی صاحب زعیم اعلیٰ انصار اللہ لندن نے پروگرام کا جائزہ لیا۔نماز تہجد و فجر کے بعد مکرم شیخ صاحب نے سورۃ المومنون کی پہلی بارہ آیات کا نہایت لطیف پیرایہ میں درس دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مومنین کی کامیابی کے جو گر بیان فرمائے ہیں ، ان کی وضاحت کی۔درس کے بعد انصار نے تلاوت قرآن کریم کی۔ناشتہ کرنے کے بعد دوستوں نے انفرادی طور پر نماز اشراق مسجد فضل لندن میں ادا کی۔اجتماع کا پہلا اجلاس دس بجے صبح زیر صدارت مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب شروع ہوا۔آپ نے سب سے پہلے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا بذریعہ تار موصولہ بابرکت پیغام پڑھ کر سنایا جو حضور پرنور نے از راہ شفقت اس اجتماع کے موقع پر ارسال فرمایا تھا۔حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو با برکت اور کامیاب فرمائے نیز فرمایا کہ آپ لوگ قرآن کریم سیکھیں اور دوسروں کو سکھلائیں اور اپنے عہد کو پورا کریں۔اجلاس میں حاضری نوے کے لگ بھگ تھی۔تلاوت قرآن کریم ملک عبدالعزیز صاحب نے کی۔مکرم شیخ صاحب نے عہد ہر وایا۔نظم مکرم خالد احمد صاحب اختر نے کلام محمود سے پڑھ کر سنائی۔مکرم شیخ صاحب نے اس موقعہ پر مندرجہ ذیل باتوں کی طرف توجہ دلائی۔اول قرآن کریم کو سیکھیں۔دوم اپنے بچوں، عزیزوں اور دوسروں کو بھی تعلیم قرآن سے آگاہ کریں۔سوم قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق زندگیاں بسر کریں۔مکرم داؤ د احمد صاحب گلزار نے ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنائے۔بعدہ مکرم کیپٹن محمد حسین صاحب چیمہ نے تقویٰ اللہ پر نہایت مدلل اور مؤثر تقریر کی۔نظام خلافت کے موضوع مکرم مولوی عبدالکریم صاحب نے سورۃ النور کی آیت استخلاف سے استدلال کر کے تقریر فرمائی۔اجلاس دوم پندرہ منٹ کے وقفہ کے بعد شروع ہوا جس کی صدارت مکرم بشیر احمد رفیق خان صاحب سابق امام مسجد لندن نے کی۔مکرم مولوی عبد الکریم صاحب نے سورۃ آل عمران کی تلاوت کی۔نظم مکرم محمد شریف صاحب اشرف نے درمشین سے پڑھی۔ازاں بعد مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب سابق مبلغ ہالینڈ وانڈونیشیا نے حضرت ابو بکر صدیق کے عالی مقام اور مرتبہ کی وضاحت قرآن کریم اور احادیث سے کی۔اس کے بعد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے ذکر حبیب کے موضوع پر تقریر فرمائی۔آپ نے بتایا کہ میں تقریباً ساڑھے گیارہ سال کا تھا جب میں نے پہلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا۔حضرت