تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 417 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 417

۴۱۷ والدہ صاحبہ نے اپنی تین رؤیا کی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہچان کر جبکہ حضور سیا لکوٹ میں تشریف لائے تھے، والد صاحب سے پہلے بیعت کر لی تھی۔والد صاحب نے حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ سے تین چار ملاقاتیں کرنے اور بعض امور کی تسلی کرنے کے بعد بیعت کی۔آپ نے بیان فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں سٹیج کے ایک کنارے پر بیٹھا تھا اور جب تک حضور تقریر فرماتے رہے، ٹکٹکی لگا کر حضور کے چہرہ کو دیکھتا رہا۔میری نظر ایک سیکنڈ کے لئے آپ کے چہرہ مبارک سے نہیں بھی۔اُس وقت سے آج تک میرے دل میں کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کی صداقت کے بارے میں شبہ نہیں گزرا۔۱۹۰۷ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل نے لکھا کہ اب آپ خود بھی بیعت کر لیں۔یہ گویا عملی رنگ میں میرے صحابی بنے کی تحریک تھی ورنہ میں سمجھتا تھا کہ والدین کے احمدی ہو جانے سے میں بھی احمدی ہوں۔آپ نے نہایت دلچسپ انداز میں اپنی والدہ صاحبہ کے ایمان افروز واقعات بیان کئے۔ٹھیک اڑھائی بجے اجتماع کا تیسرا اجلاس شروع ہوا۔اس اجلاس کی صدارت مکرم مولا نا شیخ مبارک احمد صاحب نے فرمائی۔تلاوت قرآن کریم مکرم خواجہ رشید الدین صاحب قمر نے کی اور کلام محمود سے نظم مکرم مولوی رمضان علی صاحب نے سنائی۔اس کے بعد مکرم ڈاکٹر نذیر احمد صاحب نے اپنے والد حضرت سردار عبدالرحمن صاحب سابق مہر سنگھ ( صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کے حالات زندگی سنائے۔درس حدیث میں مکرم مولوی عبدالکریم صاحب شرما نے بیان کیا کہ صحابہ کرام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اس قدر والہانہ عشق تھا کہ وہ حضور کی ہر بات اور ہر حرکت و سکون کو نوٹ کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اس آگاہ کرتے تھے۔یہ انہیں کی محبت واخلاص کا نتیجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن سے لے کر آخری عمر تک کے مفصل حالات کا مستند ریکارڈ موجود ہے۔اس کے بعد نظام خلافت کی اہمیت کے بارے میں مکرم مولوی مبارک احمد صاحب ساقی نے کہا کہ اگر تمام دنیا اس نظام کو اپنالے تو یہ دنیا امن وسکون اور جنت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔یہی ایک نظام ہے جس کے ذریعہ دنیا کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔اپنے صدارتی خطاب میں مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب نے کہا کہ نیکی اور تزکیہ نفس کے ذریعہ روحانیت کی فضا پیدا کریں جو کہ ہمارے اس اجتماع کا مقصد ہے۔خلافت کا منصب خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے اور جس منصب کو خدا قائم کرے، اس کا احترام بڑھ جاتا ہے کہ اسے خدا نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔خدا کے بعد سب سے بڑی ہستی دنیا میں رسول کی ہوتی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس نے میرے امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔خلفائے راشدین کے طریقے کو ماننا آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاکیدی حکم پر عمل پیرا ہونا ہے۔خلافت کی دل و