تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 12
۱۲ نیکی پردوام" حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس نے رمضان المبارک کے مقدس ایام کے پیش نظر عہدیداران کو توجہ دلائی کہ وہ ایسے حکیمانہ طریق اختیار کریں کہ انصار کے اندر عبادات کا ذوق و شوق برقرار ر ہے چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا: رمضان شریف کا مہینہ بہت سی برکات کا حامل ہے اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے انسان کو خاص نیکیوں کی توفیق ملتی ہے اور اس میں نیکیوں کا ایک مخصوص ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔دوست قرآن کریم کی تلاوت نمازوں میں زیادہ با قاعدگی اختیار کرتے ہیں۔مساجد اس ماہ میں غیر معمولی طور پر بھری بھری نظر آتی ہیں۔اس دفعہ بھی رمضان کا بابرکت مہینہ گذر رہا ہے۔مساجد میں نمازیوں کی خوب رونق ہے۔یہ رونق دیکھ کر جہاں دل میں بشاشت پیدا ہوتی ہے وہاں قدرتی طور پر یہ خواہش بھی پیدا ہوتی ہے کہ کاش مساجد میں یہ رونق سارا سال قائم رہے۔میں مجالس انصار اللہ کے جملہ عہدہ داران کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایسا پروگرام بنائیں کہ جن دوستوں نے رمضان شریف میں با قاعدگی کے ساتھ نماز شروع کی ہے وہ اس پر مداومت اختیار کریں۔ایسے دوستوں کی فہرستیں تیار کر لی جائیں۔ان کو رمضان میں نہایت حکمت اور نرمی کے ساتھ اس امر کی طرف توجہ دلائی جائے کہ انہوں نے نیکی کا جو کام شروع کیا ہے اسے سارا سال قائم رکھیں اور اس پر۔(۳) عمل پیرا رہیں۔" دستور اساسی کا نیا قاعدہ نمبر ۲۰ سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے و مئی ۱۹۷۹ء کو دستور اساسی میں مندرجہ ذیل نیا قاعدہ نمبر ۲۰۱ منظور فرمایا۔پاکستان سے باہر ملک کامشنری انچارج اُس ملک میں مجلس انصار اللہ کا نائب صدر ہوگا۔(۳) انفاق فی سبیل اللہ اور انصار الله وسط ۱۹۷۹ء میں بعض مجالس کے چند اراکین کی طرف سے یہ سوال اُٹھایا گیا کہ کیا ذیلی تنظیم (انصار اللہ ) کا چندہ لازمی ہے یا طوعی۔اس سوال کے جواب میں صدر محترم نے قرآن پاک کی آیات کریمہ اور سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اور سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث" کے مبارک ارشادات پر مشتمل ایک چھوٹا سا پمفلٹ تیار کرنے کے لئے مکرم پروفیسر عبدالرشید غنی صاحب قائد مال کو ہدایت دی تھی۔یہ پمفلٹ