تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 13 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 13

۱۳ انفاق سبیل اللہ اور انصار اللہ کے نام سے قیادت مال مرکزیہ نے شائع کیا۔اس کا ایک نسخہ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں یکم اگست ۱۹۷۹ء کو صدر محترم نے دعا کی درخواست کے ساتھ بھجوایا۔اس پر حضور انور نے تحریر فرمایا: ” اللہ تعالیٰ برکت ڈالے۔اس پمفلٹ میں صدر محترم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے لکھا: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ انصار اللہ کی چند ایک مجالس کے کچھ اراکین کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا چندہ انصار اللہ لازمی ہے یا طوعی ؟ اس سوال کے جواب میں خاکسار سب سے پہلے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے دو اہم ارشادات پیش کرتا ہے: (۱) تمام ممبروں سے کم از کم ایک آنہ ماہوار کے حساب سے چندہ لیا جائے گا۔جس کا با قاعدہ حساب رکھا جائے گا۔“ ( فیصله مجلس عامله مرکز یه ۲۷ اکتوبر ۱۹۴۳ء) ارشاد حضور: "منظور ہے۔عمل کیا جائے“ (۲۳ نومبر ۱۹۴۳ء) (۲) اگر کوئی شخص ایسا ہے جو چالیس سال سے اوپر کی عمر رکھتا ہےمگر وہ انصاراللہ کی مجلس میں شامل نہیں ہوا تو اُس نے بھی ایک قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔“ ( روز نامہ الفضل ربوہ ۲ ستمبر ۱۹۶۱ء) ان واضح ارشادات کی تعمیل میں دستور اساسی مجلس انصاراللہ میں یہ قاعدہ بعد از منظوری حضور بنایا گیا: سلسلہ عالیہ احمدیہ کے وہ افراد جن کی عمر چالیس سال سے زائد ہو اس مجلس کے لازماً رکن ہوں گے۔‘ ( قاعدہ نمبر ۱۲) ان دو مبارک ارشادات کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر وہ احمدی جس کی عمر چالیس سال سے زائد ہے، انصار اللہ کا مہر ہے اور اُس پر کم از کم شرح کا چندہ ادا کر نالازمی ہے۔قرآن پاک میں مال کی قربانی کو ایک مقصد قرار دیا گیا ہے۔قرآن پاک میں مالی قربانی کا بار بار ذکر کیا گیا۔اس کے ذریعے مومنوں کو تزکیۂ نفس حاصل ہوتا ہے۔یہ قربانی خدائے کریم کے نزدیک کرتی ہے۔اُس کا قرب حاصل ہوتا ہے۔اُس کا پیار نصیب ہوتا ہے۔نیز اس قربانی سے مال میں برکت پڑتی ہے اور انسان بہت سی ناگہانی آفات، مصائب ، مشکلات اور بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔چندے ادا کرنے والوں کی اولادوں کو خدا تعالیٰ بے انتہاء فضلوں اور برکتوں سے نوازتا ہے۔چنانچہ ملاحظہ ہوں۔مندرجہ ذیل آیات قرآنی: (۱) الَّذِيْنَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (سورة البقره آیت ۲۷۵)