تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 11 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 11

جزاکم اللہ احسن الجزاء۔آپ کا یہی لکھنا کہ آپ کے علاوہ اور کوئی رکن نہیں ، بہت ہے۔یہ کاغذی کاروائی نہیں بلکہ مرکز سے آپ کا رابطہ پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔مطلع فرمائیں کہ آپ کے قصبہ میں کتنے احمدی بچے یا ایسی مستورات ہیں جن کی تربیت کے لئے آپ کوئی نہ کوئی کاروائی کر سکتے ہیں۔ہم آپ کے سپر دالیا معین کام کریں گے کہ آئندہ آپ کو رپورٹ میں کچھ نہ کچھ لکھنے کا موادل جائے گا۔“ ”اپنے پروگرام کے لئے روپیہ جمع کریں“ محترم صدر صاحب مجلس نے مندرجہ بالا عنوان کے تحت ایک شذرہ لکھا اور زعماء کو ہدایت کی کہ وہ اپنے تمام اراکین کو نہ صرف بجٹ میں شامل کریں بلکہ ہر رن کی صحیح آمد پر تشخیص کریں۔صدر محترم نے لکھا: سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ ممبران مجلس انصار اللہ کو ہدایت فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ جب تک انصار اللہ اپنی ترقی کے لئے صحیح طریق اختیار نہیں کریں گے اس وقت تک انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔مثلاً میں نے انہیں توجہ دلائی تھی کہ وہ اپنے کام کی توسیع کے لئے روپیہ جمع کریں اور اسے مناسب اور ضروری کاموں پر خرچ کریں مگر میری اس ہدایت کی طرف انہوں نے کوئی توجہ نہیں کی۔“ (خطبہ جمعہ ۲۲ اکتوبر ۱۹۴۳ء) حضور کی اس واضح ہدایت کی روشنی میں زعماء کرام مجلس انصار اللہ کا فرض ہے کہ وہ اپنی مجلس کے تمام ممبران کو بجٹ میں شامل کریں۔نیز ہر مبر کی صحیح آمد پر بجٹ تشخیص فرما دیں۔(۲) صدر محترم کی ہدایات بسلسلہ اجتماعات صدر محترم نے مکرم قائد صاحب عمومی کو تاکید فرمائی کہ جتنے اجتماعات کی منظوری دی جائے ،سب کو ہمیشہ یہ اصولی ہدایت دی جاتی رہے کہ اپنے پروگراموں میں ا۔عہد یداران کے باہمی مشورہ کا وقت ضرور رکھا جائے۔-۲- عمومی کارکردگی بہتر بنانے کے علاوہ رپورٹس با قاعدہ بھجوانے کا طریق کار تجویز کیا جائے۔ضلع سانگھڑ میں ۲۰ اپریل ۱۹۷۹ء کو سالانہ تربیتی کلاس کے انعقاد کی منظوری کے لئے مکرم پیر فضل الرحمان صاحب امیر ضلع سانگھڑ کے خط پر صدر محترم نے تحریر فرمایا: منظور ہے۔البتہ اس میں دو دن باہمی مشوروں کے لئے دقت رکھیں جن کے دوران مرکزی پروگرام پیش کر کے اس پر بہترین رنگ میں عمل درآمد کی تجاویز اور دوران سال بار بار کام کرنے کی رفتار کا جائزہ لینے کا طریق کارطے ہو۔“