تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 207 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 207

۲۰۷ انتظار بالکل نہیں کرنا۔کسی جاہل کے لئے کسی بے علم کے لئے اب کوئی عذر نہیں ہے کہ جب تک مجھے علم نہیں ہوگا، میں تبلیغ نہیں کرسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کتنی پیاری بات فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ دیکھو! حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو صحابہ اور غلام عطا ہوئے تھے ، وہ تو امی تھے اور اُمی بن کے انہوں نے دنیا کو علم دینا شروع کر دیا اور وہ مسیح جس کے نام پر میں آیا ہوں، اس کے ماننے والے بھی ان پڑھ محض تھے اور اس کے باوجود وہ تبلیغ سے باز نہیں آئے۔ان کو جو کچھ علم تھا اور معرفت تھی اس کو لے کر وہ نکل کھڑے ہوئے۔اصل تبلیغ کی دولت تقویٰ ہے نہ کہ علم فرمایا اصل تبلیغ کی دولت تقویٰ ہے نہ کہ علم یتم تقویٰ کے ساتھ نکل کھڑے ہو تو پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میں بہت برکت پڑے گی۔اس ضمن میں میں ایک مثال کئی دفعہ مجالس کے سامنے پیش کرتا رہا ہوں۔بہت پیاری مثال ہے۔میں ایک دفعہ مانگٹ اونچے گیا۔وہاں کے جہاں خاں صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ صحابی جنہوں نے آپ کے وصال سے پہلے آخری بیعت کی ہے۔وہ ابھی زندہ تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں احمدیت کس طرح آئی تھی ؟ بہت سادہ پنجابی میں بات کرنے والے تھے ، بڑے پیارے انداز میں۔انہوں نے کہا کہ پیغام اس طرح پہنچا تھا کہ ایک دفعہ جب ہماری آنکھ کھلی تو ایک مسافر دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا اور گنڈی کھٹکھٹا کر کہہ رہا تھا کہ امام مہدی آ گیا ہے۔جس نے ماننا ہے، مان لے۔جس نے نہیں ماننا اس کی مرضی۔میں نے حجت پوری کر دی۔گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر وہ مسافر چلا گیا۔لیکن اس کے دل میں کوئی ایسا جذبہ ایمانی تھا، ایسا تقومی تھا جسے خدا نے قبول فرمایا اور پھر فرشتوں نے وہ کنڈیاں کھٹکھٹانی نہیں چھوڑیں جب تک وہ لوگ احمدی نہیں ہو گئے۔کثرت کے ساتھ وہ کنڈی کھلکھتی رہی جو ان کے دلوں کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے قادیان آدمی بھیجے اور وہ جا کر احمدی ہوئے۔واپس آ کر انہوں نے پیغام دیئے اور جو سعید روحیں تھیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نجات پا گئیں۔پنا تقویٰ اور دعا پر رکھیں تو کنڈی بھی نہیں کھٹکھٹائی جاتی کسی احمدی سے؟ اصل کنڈی تو خدا نے کھٹکھٹانی ہے۔دلوں کا اختیار تو نہ میرے بس میں ہے، نہ آپ کے اور نہ دنیا کے کسی عالم کے بس میں۔اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم