تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 208
میں یہ راز کھول رہا ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو مخاطب کر کے کہ اے محمد ! دل تیرے قبضہ میں بھی نہیں ہیں ، وہ میرے قبضے میں ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں ( دوانگلیوں کو یوں حرکت دے کے، پھیر کے ) کہ دل تو صرف میرے رب، اللہ کے قبضے میں ہیں۔جس طرح دوانگلیوں میں کوئی چیز ہو اس طرح وہ جب چاہے ، ان کو پھیر دے، جب چاہے بدل دے۔تو دلوں کو پھیرنا ہے ہی خدا کا کام۔کبھی علم سے بھی دل پھرے ہیں؟۔ایسے علماء میں نے دیکھے ہیں احمد یوں میں بھی جنہوں نے ساری عمر بعض لوگوں سے بحثوں میں ٹکریں لی ہیں اور اپنی طرف سے بڑی بڑی شکستیں دی ہیں مگر دل تبدیل نہیں ہو سکے۔بعض مخالف ایسے ہوتے ہیں۔اس لئے آپ بناء تقویٰ پر رکھیں اور دعا پر رکھیں اور کام شروع کر دیں اور بالکل نہ رکیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ اور غیر معمولی برکت بھر دے گا۔مرکز آدمی بھیج سکتا ہے نہیں بھی بھیج سکتا۔آ جائے تو بہتر ، نہ آئے تو خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کام سے باز نہ آئیں اور یہ کام جاری رکھیں۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے گا۔قیادت عمومی اب میں قیادت عمومی کے سلسلے میں ایک ایسی بات عرض کرنی چاہتا ہوں جس کا سب شعبوں سے تعلق ہے۔چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں تفصیل سے سمجھانے والی۔رات میں نے ناظمین سے عرض کیا تھا کہ جب آپ کو یہ پیغام دیئے جاتے ہیں تو کچھ آپ بھول جاتے ہیں، کچھ آپ کے پیغامبر بھول جاتے ہیں اور ہمارا نظام پیغامبری کا بڑا ہی ناقص ہے۔تبھی تو خدا تعالیٰ بڑی تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد چنتا ہے کہ کس کو حق ہے پیغام پہنچانے کا؟ ہر کس و ناکس کو حق ہی نہیں ہوتا۔بڑی محنت کرنی پڑتی ہے پیغام رسانی میں۔امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ ایک دفعہ جماعت کی تربیت کے سلسلے میں بتا رہے تھے کہ پیغام رسانی اتنا مشکل کام ہے کہ کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔جب پرنس آف ویلز ہندوستان آیا تو فوج میں پیغام رسانی کا ایک مقابلہ ہوا۔ایک طرف صرف یہ پیغام دیا گیا تھا کہ پرنس آف ویلز آ گئے ، دوسری طرف سے وہ پیغام یہ بن کر نکلا کہ دو پیسے مل گئے تو اس سے اندازہ کریں کہ لوگ پیغا موں کو کس طرح بگاڑا کرتے ہیں۔صحیح پیغام پہنچانا محنت کا کام ہے تو اس پر بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔اس لئے ایک تو میری یہ گزارش ہے کہ ناظمین اضلاع اور تمام عہد یداران اس کو بہت اہمیت دیں۔اب حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے