تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 206 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 206

پس مجلس انصار اللہ کی حیثیت سے ہمیں بھی شکر ادا کرنے والا ایسا دل مانگنا چاہیے کہ جو آئندہ خدا کی بے پناہ ، بے انتہا رحمتوں کی ضمانت دینے والا دل ہو۔ہمارے اپنے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔جو بھی معمولی سی کوشش ہوئی ہے۔بالکل ادنیٰ سی کوشش ہے لیکن اس کا پھل جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے، اعداد و شمار میں کسی کو معمولی نظر آئے مگر ہر احمدی جس کا دل شکر کی عادت رکھتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ جو کچھ بھی نصیب ہوا ہے یہ ہماری کوششوں سے نہیں ہوا، محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے نصیب ہوا ہے۔۱۳۲ تمہیں خود مبلغ بننا پڑے گا گزشته سال ۱۹۸۰ء میں وہ مجالس جنہوں نے مذاکروں میں حصہ لیا یا نذا کرے کرائے ان کی تعداد تھی اور تین سال پہلے چند گنتی کی مجالس تھیں۔۱۳۲ پر بھی ہمارا دل بے حد شکر سے خدا کے حضور جھکا۔لیکن ۱۹۸۱ء میں یہ تعداد خدا کے فضل سے ۸۲۷ ہو چکی ہے۔ہر ضلع میں بے حد ڈیمانڈ (DEMAND) پیدا ہوگئی ہے۔اس لئے اب مرکز والے سوچ رہے ہیں کہ جو سکیم شروع کر بیٹھے ہیں، اس کو نباہ بھی سکیں گے یا نہیں اور یہاں سے آدمی نہیں مل سکتے اور واقعہ یہ ہے کہ آدمی مل بھی نہیں سکیں گے۔کیونکہ یہ سکیم حضرت مصلح موعود کی جاری کردہ حکیم ہے کہ ہر گھر مبلغ بن جائے۔ہر گھر میں مجلسیں لگ جائیں۔آخر آپ جانتے تھے۔بڑے حساب دان تھے۔سیکنڈوں میں لاکھوں کروڑوں کا حساب زبانی کرلیا کرتے تھے جبکہ حساب دان حیران رہتے تھے کہ ہم قلم ، دوات اور کاغذ لے کر اتنا حساب نہیں کر سکتے جتنا حضرت صاحب زبانی کر لیتے ہیں۔تو چونکہ حساب دان تھے اس لئے ساتھ ہی آپ نے جماعت کو متنبہ فرما دیا کہ دیکھو! مربی پر انحصار نہیں کرنا، مرکزی علماء پر انحصار نہیں کرنا، جو سکیم میں تمہیں دے رہا ہوں اس کے لئے ممکن ہی نہیں کہ مرکز اتنے آدمی مہیا کر دے کہ جو ہر گھر میں پہنچ کر آپ کی مدد کریں۔آپ نے فرمایا تمہیں خود مبلغ بننا پڑے گا۔تمہیں خود خدا کا پیغامبر بننا پڑے گا اور اس کے لئے تیاری کے سلسلہ میں آپ نے وہی بات کہی جس قسم کا اقتباس کل آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظات میں سے سنا تھا۔آپ نے فرمایا کہ تم میں جو بھی طاقت ہے اس کے ساتھ تبلیغ شروع کرو۔اسلام تمہیں تکلیف مالا طاق نہیں دیتا۔تمہیں یہ نہیں کہا جائے گا کہ تم پہلے بڑے عالم بنو علم کی تو کوئی حد بھی نہیں ہوتی۔بظاہر کوئی کتنا بڑا عالم بن جائے۔علم کے ایسے بے شمار سمندر باقی ہیں جہاں سے ایک قطرہ بھی اس نے نہیں چکھا ہوگا۔تو فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے، اپنی طاقت کے مطابق وہ لے کر تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہو۔ہر گز انحصار نہیں کرنا۔خوف نہیں کھانا۔فرمایا تو کل یہ ہے اور توکل کا راز اس بات میں ہے کہ خدا نے جو تمہیں دیا ہے وہ اس کی راہ میں دے دو۔اس لئے