تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 160 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 160

17۔مجالس کو ارسال کی جائیں اسی طرح دعوت الی اللہ کے لئے مجالس سوال و جواب بھی ٹیپ ریکارڈ کر کے بھجوائی جائیں۔کمپیوٹر سے فائدہ اٹھانے کے بارہ میں بھی دفتری ملاقاتوں میں اپنے خیالات کا اظہار فرماتے رہتے۔آپ اس امر کو بھی محسوس فرمارہے تھے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے خطبات کی کیسٹیں باہر جماعتوں میں بھجوائی جائیں کیونکہ حضور کے خطبات صرف الفضل میں ہی چھپتے جو کافی دیر سے جماعتوں میں پہنچتے نیز براہ راست خلیفہ کی آواز میں بات کا سننا اپنا ایک الگ اثر رکھتا ہے۔یہ خیالات آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے۔صدر محترم نے دوسرے سال کے پہلے ہی اجلاس عاملہ میں قیادت تربیت اور تعلیم کی ماہانہ رپورٹوں پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: عام طور پر دیہاتی مجالس میں اچھی تلاوت کرنے والے نظم پڑھنے والوں کی کمی پائی جاتی ہے۔تلفظ کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔اس کی اصلاح ہونی بڑی ضروری ہے۔اس سائنسی دور میں نئی ایجادات سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔بہت سے لوگوں کے پاس ٹیپ ریکارڈر ہیں۔اگر ان کو مرکز کی طرف سے صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن کریم اور نظمیں ٹیپ کر کے بھجوائی جائیں تو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔صوتی ایجادوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر محترم نے ارشاد فرمایا کہ DUPLICATING مشین ایجاد ہوئی ہے ان TAPES کو فی الحال ضلعی لیول پر تقسیم کروایا جائے اس کے بعد تحصیل وار ہوسکتا ہے۔آہستہ آہستہ انصار کے اپنے دائرہ کار میں اس پر عمل درآمد کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔۱۹۸۰ء کے آخر میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے خطبات جمعہ ٹیپ ریکارڈ ہو کر باہر جماعتوں میں بھجوائے جانے لگے اور اپریل ۱۹۸۴ء تک کے قلیل عرصہ میں یہ نظام ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گیا کہ خلیفہ وقت کے اردو خطبات کا ترجمہ دوسری زبانوں میں بھی ہونے لگا۔حضرت خلیفہ لمسیح الثالث کی انصار اللہ کراچی سے خصوصی ملاقات سیدنا حضرت خلیفہ المسح الثالث نے اپنے قیام کراچی کے دوران از راہ شفقت مجلس انصار اللہ ضلع کراچی کو خصوصی ملاقات کا شرف بخشا۔حضور ۳۱ اگست ۱۹۸۱ء شام ساڑھے پانچ بجے اپنی قیام گاہ واقع ڈیفنس سوسائٹی کے وسیع لان میں رونق افروز ہوئے۔پہلے ناظم ضلع کراچی مکرم نعیم احمد خان صاحب کی سرکردگی میں مجلس عاملہ کے اراکین نے حضور انور سے تعارف و مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔ازاں بعد جب حضور کرسی صدارت پر تشریف فرما ہوئے تو تلاوت قرآن کریم سے اجلاس کا آغاز ہوا۔حضور نے تمام انصار سے عہد دہر وایا اور پھر