تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 161
۱۶۱ گذشتہ چھ ماہ کی کارگزاری کے بارے میں استفسار فرمایا۔مکرم ناظم صاحب ضلع نے مختصر طور پر مجلس کی مساعی بیان کی جس میں نماز فجر میں احباب کی کثرت کے ساتھ شرکت مختلف مساجد میں حاضری کی صورتحال، انصار کی تربیتی سرگرمیوں اور اصلاح و ارشاد کے بعض امور کا ذکر تھا۔حضور انور ساتھ ساتھ اپنے قیمتی خیالات اور نصائح پر مشتمل تبصرہ فرماتے رہے۔حضور انور نے فرمایا کہ ہر چیز کی اہمیت کا اندازہ معرفت پر منحصر ہوتا ہے۔جتنی زیادہ کسی چیز کی معرفت ہوگی اُتنی ہی زیادہ اس کی محبت پیدا ہوگی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معرفت کی ضرورت ہے۔قرآن کریم تمام علوم کا سر چشمہ ہے۔ہمیں چاہئیے کہ قرآن کریم کا ترجمہ سیکھیں اور جنہیں قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے، وہ قرآن کریم کے مطالب اور تفسیر پر غور کریں۔حضور نے اس کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کی طرف توجہ دینے پر بھی زور دیا نیز فرمایا کہ ہر چیز بنی نوع انسان کے لئے مسخر کی گئی ہے اس لئے انصار کو چاہیے کہ اپنے ان تمام خدام سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔حضور نے انصار کو ورزش کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔اس سلسلے میں فرمایا کہ سائیکل چلانا اچھی ورزش ہے۔شعبہ تربیت نے ایک مختصر کتابچہ شائع کر کے اس موقع پر تقسیم کیا جو حضور کے گذشتہ سال کے ارشادات کے اقتباسات پر مشتمل تھا ، حضور نے اسے بھی ملاحظہ فرمایا اور بعض اصلاح طلب امور کی نشاندہی کی۔حضور پُر نور کے ساتھ یہ ایمان افروز نشست تقریباً سوا گھنٹہ جاری رہی۔اس کے بعد حضور نے دعا کرائی اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کے تحفے کے ساتھ اندرونِ خانہ تشریف لے گئے۔اس اجلاس میں انصار بڑی کثرت کے ساتھ شریک ہوئے۔ضلع کراچی کی تمام مجالس اپنے زعماء اعلیٰ کی سرکردگی میں لائنوں میں حاضر تھے۔انصار احباب نے اپنے پیارے امام ہمام کے ارشادات بڑی توجہ سے سنے۔﴿۵۱﴾ قرآنی علم سیکھنے میں مہارت حاصل کرو سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو گفتگو فرمائی تھی ، اس کا ملخص حضور ہی کے مبارک الفاظ میں ذیل میں درج ہے: حضور نے فرمایا : ” ناظم صاحب ضلع مجھے یہ بتائیں کہ انصار اللہ کہتے کسے ہیں یعنی آپ کا پروگرام کیا ہے۔آپ کیا کرتے ہیں۔اپنا تعارف کروائیں۔اس پر ناظم صاحب نے اپنی ششماہی رپورٹ پیش کی تو مساجد میں انصار کی حاضری کے ذکر پر حضور انور نے فرمایا۔مسجد میں آکر نماز با جماعت ادا کرنے کا مسئلہ یہ جو مسجد میں آ کر نماز با جماعت ادا کرنے کا مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ اس طرح نہیں ہے کہ اگر قریب