تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 159 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 159

۱۵۹ کی تعمیر کی سفارش کی گئی۔نیز کمیٹی روم اور قائدین کے لئے مزید دفاتر بنانے ، موجود بلڈنگ کی فوری مرمت اور رنگ وروغن کے ضمن میں تفصیلی مشورے صدر محترم کی خدمت میں پیش کئے گئے۔یہ رپورٹ مجلس عاملہ مرکزیہ کے اجلاس منعقد ۲۴۰ فروری ۱۹۸۱ء میں پیش ہوئی اور غور و فکر کے بعد قرار پایا کہ بیرونی ممالک کے مہمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر موجودہ گیسٹ ہاؤس کے مشرقی جانب دو تین بیڈرومز پر مشتمل نیا یونٹ تعمیر کروایا جائے۔(۵۴) تعمیر کمیٹی کی رپورٹ پر گیسٹ ہاؤس کی توسیع کے لئے نقشہ بنوایا گیا جس میں ۱۴×۶افٹ کا پورچ ، ۱۶×۹۔۱۲افٹ کا لاؤنج ۶x۱۴افٹ کے چار بیڈ رومز، ۶ ۷ ۸ فٹ کے پانچ غسل خانے ، چار وارڈ روبز اور سیڑھیوں کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔اس نقشہ کے مطابق تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا جو بفضلہ جلد پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔یہ خوبصورت عمارت جدید طرز کے ڈیزائن کی حامل تھی۔چاروں کمروں میں تین تین بیڈا ایسے بنوائے گئے جو حسب ضرورت فولڈ ہوکر دیوار میں پیوست ہو جاتے تھے۔ہر کمرہ میں ایک چھوٹا کچن دیوار کے اندر الماری میں بنوایا گیا جس میں گیس ، پانی ، واش بیسن وغیرہ کی سہولت مہیا تھی۔فرشوں پر چپس ڈلوایا گیا۔گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کے لئے صدر محترم نے نہ صرف مجالس کو عطایا بھجوانے کی ہدایت کی بلکہ خود بھی ذی استطاعت احباب سے عطیہ دینے کی درخواست کی چنانچہ اس مقصد کے لئے مطلوبہ رقم کا انتظام بھی ہو گیا۔توسیع عمارت دفتر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے اپنی صدارت کے پہلے ہی سال دفتر مرکزیہ کی عمارت کا جائزہ لے کر محسوس فرمایا کہ جلسہ سالانہ اور دیگر اجتماعی تقاریب میں شامل ہونے والے حضرت مسیح موعود کے مہمانوں کے لئے جدید طرز کے بیوت الخلا اور غسل خانوں کی ضرورت ہے چنانچہ صدر محترم نے پہلے ان سہولتوں کی تعمیر کا فیصلہ فرمایا۔پچھتر ہزار روپے کے صرف کثیر سے سوا بیالیس فٹ لمبے اور ساڑھے چودہ فٹ چوڑی عمارت دفتر انصار اللہ مرکزیہ کے غربی گیٹ کے ساتھ تعمیر ہوئی جس میں تین غسل خانے اور پانچ بیوت الخلا بنوائے گئے۔نیز ہیں آدمیوں کے بیک وقت وضو کرنے کی سہولت بھی مہیا کی گئی۔تین واش بیسن معہ شیشے بھی لگوائے گئے۔کیسٹ پروگرام۔ابتدائی خیالات اور ترقی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے آغاز کار میں اس طرف توجہ دلانا شروع کردی که موجوده زمانہ کی سائنسی ایجادات سے ہماری جماعت کو بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیئے۔آپ نے دوروں کے دوران اس امر کو بھی شدت سے محسوس فرمایا کہ اجلاسات میں جو دوست تلاوت قرآن کریم یا نظم پڑھتے ہیں ، ان کا تلفظ درست نہیں ہوتا اس لئے مرکز کو چاہیے کہ قرآن کریم کا کچھ حصہ اور نظمیں صحیح تلفظ کے ساتھ ریکارڈ کر کے کیسٹ بیرونی