تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 460
۲۶۰ تھا۔کھانے کی تیاری میں مکرم شیخ ناصر احمد صاحب، مکرم میاں عبد الشکور صاحب اور مکرم میر ذکریا صادق صاحب نے بھر پور تعاون کیا۔(۱۹) رپورٹ یکم ستمبر ۱۹۸۱ء تا اگست ۱۹۸۲ء سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی زیورک تشریف آوری کے موقع پر مجلس انصار اللہ سوئٹزر لینڈ نے اپنی مساعی از یکم ستمبر ۱۹۸۱ء تا آخر اگست ۱۹۸۲ء کی مختصر رپورٹ پیش کی۔یہ رپورٹ زعیم اعلیٰ سوئٹزر لینڈ مکرم مشتاق احمد صاحب باجوہ صاحب نے تیار کی جو یہ تھی :۔مجلس انصار اللہ سوئٹزر لینڈ بعض سوس احمدی غیر پاکستانی احمدی اور پاکستانی انصار پر مشتمل تھی۔عرصہ زیر رپورٹ میں دو افراد کا اضافہ ہوا۔شعبہ تعلیم کے مرکزی لائحہ عمل کے تحت انصار کو تحریک کی گئی کہ وہ مسئلہ وفات مسیح کی تیاری کریں۔انصار نے اس میں بہت دلچسپی لی۔آخر میں اس بارے میں ایک مفصل تحقیقی مقالہ پیش کیا گیا۔۔قرآن کریم کی بعض سورتیں انصار کو حفظ کروائی گئیں۔نومسلموں کی آسانی کے لئے ان سورتوں کی TRANSLITERATION تیار کی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ”اسلامی اصول کی فلاسفی مطالعہ کے لئے تجویز کی گئی۔۵ - انصار کو تحریک کی گئی کہ ہر رکن داعی الی اللہ بنے اور کم از کم ایک شخص سے ضرور رابطہ رکھے۔۔انصار نے فولڈرز کی تقسیم کو خاص طور پر اپنے فرائض میں شامل رکھا۔کار کی سہولت رکھنے والے انصار نے مقررہ پروگرام کے تحت حلقہ کی زبان کا خیال رکھتے ہوئے لٹریچر تقسیم کیا۔ے۔انصار اللہ نے PFANNESTIEL مقام پر ۶ ستمبر ۱۹۸۱ء کو پکنک منائی۔خواتین اور بچوں نے بھی شمولیت کی۔اس موقعہ پر فولڈرز بھی تقسیم کئے گئے۔۔سکاٹ لینڈ کے مربی مکرم بشیر احمد آرچرڈ صاحب سوئٹزرلینڈ تشریف لائے۔ان کے اعزاز میں بیت محمود میں ایک تقریب عشائیہ منعقد کی گئی جس میں انہوں نے قبول احمدیت کے ایمان افروز حالات سنائے جو بعد میں طبع بھی کروائے گئے۔۔ایسے حلقے جہاں احمدیت کا پیغام مکمل طور پر نہیں پہنچا۔وہاں اشاعت لٹریچر کے لئے پروگرام بنایا گیا۔مندرجہ ذیل تین حلقے تجویز کئے گئے (۱) زیورک، برن ، جینوا اور بازی میں مقیم غیر ملکی ڈپلومیٹس جن کی زبانوں میں لٹریچر پیش کرناممکن ہے (۲) پاکستانی مقیم سوئٹزرلینڈ (۳) آسٹریا۔اس کام میں بہت کامیابی ہوئی۔﴿۲۰﴾