تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 459
۴۵۹ تقاریب ترتیب دی گئیں۔ان میں انہوں نے اپنے قید و بند کی صعوبتوں اور الہی نصرت کے حالات سنائے۔(۷) مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نائب صدر مرکزیہ نے ۱۴ سے ۷ امئی ۱۹۸۱ء تک دورہ کیا اور زیورچ کے علاوہ جینوا بھی تشریف لے گئے۔آپ نے اجلاسات عام و عاملہ سے خطاب کیا اور ہدایات دیں۔(۸)۱۹۷۹ء اور ۱۹۸۰ء میں چندہ مجلس کی وصولی ۴۵۰ فرانک تھی۔مکرم چوہدری عبد العزیز بھامبڑی صاحب کے اعزاز میں پارٹی مورخہ ۲۷ ستمبر ۱۹۸۰ء کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مرکز سے تشریف لانے والے مہمان مکرم چوہدری عبدالعزیز بھامبڑی صاحب کے اعزاز میں ایک پارٹی کا انتظام کیا جائے چنانچہ مورخہ ۵ اکتوبر ۱۹۸۰ء کو انصار کا ایک قافلہ معزز مہمان کے ساتھ پکنک پارٹی کے لئے روانہ ہوا۔اشیاء خور و نوش کا انتظام چند روز قبل ہی مختلف احباب کے تعاون سے ہو چکا تھا۔سوئٹزرلینڈ کی مشرقی سرحد کو آسٹریا کا ملک لگتا ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان ایک چھوٹی سی خود مختار ریاست DIECHETENSTEIN ہے چونکہ اس علاقے میں بعض احمدی دوست رہتے تھے۔اس لئے ان کے مشورہ سے یہ طے پایا کہ اس ریاست کے اندر ایک پہاڑی پر پکنک منائی جائے۔مقررہ مقام پر پہنچ کر کھانا تیار کیا گیا۔کھانے کے بعد ناظم اعلیٰ مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے معزز مہمان کو پُر خلوص خوش آمدید کہا اور اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی آمد کی وجہ سے ہم سب کو مختلف اوقات میں ان کے ساتھ مل کر باتیں کرنے اور پرانے زمانے کی یادیں تازہ کرنے کا موقعہ مل رہا ہے۔اس خطاب کا مختصر جواب مکرم بھامبڑی صاحب نے دیا اور منتظمین کا شکر یہ ادا فرمایا۔مکرم بھامبڑی صاحب نے خدمت سلسلہ کے ضمن میں ذاتی تجربات پر مشتمل بہت سے ایمان افروز واقعات سنائے۔قیام پاکستان کے وقت انہیں اور ان کے معزز ساتھیوں کو جن بے پناہ مشکلات کا سامنا ہوا اور قابل قدر قربانیوں کے مواقع ملے ، ان کی تفصیل بھی سنائی۔شام کے قریب قافلہ گردو نواح کی سیر کرنے کے بعد وا پس زیورچ پہنچ گیا۔﴿۱۸﴾ مکرم بشیر احمد صاحب آرچرڈ کے اعزاز میں عشائیہ مکرم بشیر احمد صاحب آرچرڈ ( جو انگریز واقف زندگی تھے ) کی آمد پر ۲۸ نومبر ۱۹۸ء کو ان کے اعزاز میں عشائیہ ترتیب دیا گیا۔طعام کے بعد استقبالیہ تقریب تلاوت سے شروع ہوئی جو مکرم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق صاحب نے کی۔مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ ناظم اعلیٰ نے معززمہمان کا تعارف کروایا جس کے بعد مکرم آرچرڈ صاحب نے اپنے قبول احمدیت کے ایمان افروز حالات سنائے۔مشن ہاؤس کی نچلی منزل میں مستورات کے لئے مائیکروفون کے ذریعہ آواز پہنچانے کا انتظام کیا گیا