تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 298 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 298

۲۹۸ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: چونکہ یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ ہماری اس جماعت میں کم از کم ایک سو آدمی ایسا اہل فضل اور اہلِ کمال ہو کہ اس سلسلہ اور اس دعوی کے متعلق جو نشان اور دلائل اور براہین قویہ قطعیہ خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں ان سب کا اس کو علم ہو۔۔۔پس ان تمام امور کے لئے یہ قرار پایا ہے کہ اپنی جماعت کے تمام لائق اور اہل علم اور زیرک اور دانشمند لوگوں کو اس طرف توجہ دی جائے کہ وہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۱ء تک کتابوں کو دیکھ کر اس امتحان کے لئے تیار ہو جائیں۔تعطیلوں پر قادیان پہنچ کر امور متذکرہ بالا میں تحریری امتحان دیں“۔(۲) اس سلسلہ میں بعد کو حضور نے فرمایا: دسمبر کے آخر میں جو احباب کے واسطے امتحان تجویز ہؤا ہے، اس کو لوگ معمولی بات خیال نہ کریں اور کوئی اسے معمولی عذر سے نہ ٹال دے۔یہ ایک بڑی عظیم الشان بات ہے اور چاہیئے کہ لوگ اس کے واسطے خاص طور پر اس کی تیاری میں لگ جاویں“۔(۳) نیز حضور نے فرمایا: ”ہماری جماعت کو علم دین میں تفقہ پیدا کرنا چاہئے ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ آیات قرآنی و احادیث نبوی اور ہمارے کلام میں تدبر کریں، قرآنی معارف و حقائق سے آگاہ ہوں۔اگر کوئی مخالف ان پر اعتراض کرے تو وہ اُسے کافی جواب دے سکیں۔ایک دفعہ جو امتحان لینے کی تجویز کی گئی تھی ، بہت ضروری تھی۔اس کا ضرور بندوبست ہونا چاہئے“۔﴿۴﴾ دینی تعلیم اور زبانیں سیکھنے کے سلسلہ میں خلفاء کے ارشادات (۱) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان تینوں مجالس کو کوشش کرنی چاہئے کہ ایمان بالغیب ایک میخ کی طرح ہر احمدی کے دل میں اس طرح گڑ جائے کہ اس کا ہر خیال، ہر قول اور ہر عمل اس کے تابع ہو اور یہ ایمان قرآن کریم کے علم کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔جو لوگ فلسفیوں کی جھوٹی اور پُر فریب باتوں سے متاثر ہوں اور قرآن کریم کا علم حاصل کرنے سے غافل رہیں، وہ ہرگز کوئی کام نہیں کر سکتے۔پس مجالس انصاراللہ ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ کا یہ فرض ہے اور ان کی یہ پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ یہ باتیں قوم کے اندر پیدا کریں اور ہرممکن ذریعہ سے اس کے لئے کوشش کرتے رہیں۔لیکچروں کے ذریعہ، اسباق کے ذریعہ، اور بار بار امتحان لے کر ان باتوں کو دلوں میں راسخ کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو بار بار پڑھا جائے“۔(۵)