تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 299
۲۹۹ (۲) حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: انصار اللہ کو آج میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ان ذمہ داریوں کو ادا کریں جو تعلیم القرآن کے سلسلہ میں آپ پر عائد ہوتی ہیں۔ایک ذمہ داری تو خود قرآن کریم سیکھنے کی ہے اور ایک ذمہ داری ان لوگوں ( مردوں اور عورتوں) کو قرآن کریم سکھانے کی آپ پر عائد ہوتی ہے کہ جن کے آپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق راعی بنائے گئے ہیں۔آپ ان دونوں ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جلد تر ان کی طرف متوجہ ہوں۔ہر رکن انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کی ذمہ داری اٹھائے کہ اس کے گھر میں اس کی بیوی اور بچے یا اور ایسے احمدی کہ جن کا خدا کی نگاہ میں وہ راعی ہے قرآن کریم پڑھتے ہیں، اور قرآن کریم سیکھنے کا وہ حق ادا کرتے ہیں جو حق ادا ہونا چاہیئیا ور انصار اللہ کی تنظیم کا یہ فرض ہے کہ وہ انصار اللہ مرکزیہ کو اس بات کی اطلاع دے اور ہر مہینہ یہ اعلان دیتی رہے کہ انصار اللہ نے اپنی ذمہ داری کو کس حد تک نبھایا ہے اور اس کے کیا نتائج نکلے ہیں“۔(1) (۳) زبانیں سیکھنے کے سلسلہ میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحم اللہ تعالی فرماتے ہیں: انصار کو یہ ہم چلانی چاہئے اور کوشش کریں کہ کوئی نہ کوئی زبان آ جائے۔اگر باہر کی نہیں سیکھ سکتے تو ملک کی دوسری زبانیں سیکھئے۔“ پھر فرماتے ہیں : ”آپ زبانیں سیکھئے۔جتنے انصار ہیں۔آپ کی عمر ایسی نہیں ہے کہ آپ سیکھ نہ سکیں۔پس آپ کو خدا تعالیٰ نے جو بچپن کا ملکہ عطا فرمایا ہے، وہ حاصل کر لیں اور سیکھنے میں بے تکلف ہو جائیں۔کوئی شرم محسوس نہ کریں۔ٹوٹے پھوٹے جتنے فقرے سیکھے جاتے ہیں، بے شک سیکھیں اور انہیں بولیں“۔﴿۷﴾ ان اغراض سے مجلس انصار اللہ میں دینی امتحانات کا سلسلہ اس طرح جاری رہا کہ ۱۹۷۹ء اور ۱۹۸۰ء میں امتحان کے لئے انصار کے دو معیار رکھے گئے تھے۔دیگر کتب کے علاوہ معیار اول میں ترجمہ قرآن کریم کا امتحان شامل تھا اور معیار دوم میں ترجمہ کی بجائے قرآن مجید ناظرہ یا قاعدہ میسر نا القرآن رکھا گیا تھا۔۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۱ ء تک چار امتحانات سالانہ تھے۔۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۹ ء تک تین امتحانات لئے جاتے رہے اور ۱۹۹۰ء سے دوبارہ چار امتحانات سالانہ جاری کر دیئے گئے جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔تفصیلی کوائف امتحانات انصار الله امتحانات انصار اللہ کے نصاب، شامل اراکین کی تعداد اور امتیاز حاصل کرنے والے انصار کے اسماء پر