تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 297
۲۹۷ تعلیمی پروگرام اور امتحانات شعبہ تعلیم مجلس انصار اللہ کا بنیادی مقصد اراکین مجلس کو علم و معرفت کے حصول کی ترغیب دلانا اور دینی تعلیم کے حصول کے لئے کوشاں رکھنا ہے۔اس ضمن میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی درج ذیل پیش خبری کو بالخصوص سامنے رکھتے ہوئے انصار کے علمی معیار کو بلند سے بلند تر کرنے کی کوشش میں لگے رہنا اس شعبہ کا تقاضا ہے۔حضور نے فرمایا: ” خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے قیادت تعلیم کے تحت مجالس مقامی میں مندرجہ ذیل مضامین کی تدریس تعلیم اور درسوں کا اہتمام کیا جاتارہا: نماز باترجمه، قرآن کریم ناظره، ترجمه و مطالب قرآن، حدیث، کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء، دیگر دینی کتب عربی زبان، دیگر ملکی وغیر ملکی زبانیں سیکھنا وغیرہ۔درس و تدریس کے اس سلسلہ کے لئے لائبریریوں کا قیام کیا جاتا رہا تعلیمی کلاسز منعقد کی جاتی رہیں۔علمی مقابلے کروائے جاتے رہے۔ماہانہ اجلاسات اور بعض خصوصی جلسوں واجتماعات میں تعلیمی پروگراموں پر عمل کیا جاتا رہا۔نیز انصار کے لئے دینی نصاب مقرر کر کے امتحانات لئے جاتے رہے۔مختلف سالوں میں انصار کے دینی مطالعہ کے لئے بطور نصاب قرآن مجید کے معین کردہ حصے، کتب احادیث مبارکہ، کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، کتب خلفائے سلسلہ اور دینی معلومات کا بنیادی نصاب ( شائع کرده از مجلس انصار اللہ ) مقرر کئے جاتے رہے۔مرکزی امتحانات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشاء مبارک یہ تھا کہ جماعت کے دوست دینی علوم میں دسترس حاصل کریں اور پھر ان کے امتحان بھی ہوں تا کہ معلوم ہو سکے کہ وہ صحیح رنگ میں علم حاصل کر چکے ہیں یا نہیں؟