ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 28

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۲۸ اردو تر جمه بعد الامـحـال۔او كصحة بعد کے بعد شادابی یا بیماری کے بعد تندرستی کی الاعتلال۔فلاجل تلک المنن طرح پایا۔پس ان احسانات اور نعماء اور والآلاء والاحسانات۔وجب مہربانیوں کی وجہ سے اس (حکومت) کا شكرها بصدق الطوية و اخلاص صدق دل اور خلوص نیت سے شکریہ ادا کرنا النيات۔فندعوا لها بألسنة صادقة واجب ہو گیا۔پس ہم اس حکومت کے لئے وقلوب صافية۔وندعو الله زبانوں اور صاف دلوں سے دعا کرتے ان يجعل لهذه الملكة القيصرة ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اس عاقبة الخير۔ويحفظها من انواع ملكه قيصره (ہند) کا انجام بخیر کرے اور اسے الغُمّة والضير۔ويصدف عنها مختلف قسم کے غموں اور نقصانات سے محفوظ المكاره والأفات۔و يجعل لها رکھے اور اس سے مکروہات اور آفات کو دور حظا من التعرف اليه بالفضل کرے اور فضل اور عنایات سے اسے اپنی والعنايات۔انه يفعل ما يشاء معرفت نصیب فرمائے۔یقیناً وہ جو چاہتا ہے و انه ارحم الراحمين۔وہی کرتا ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے۔فلما رأينا هذه المنن من هذه پس جب ہم نے اس حکومت کی طرف سے یہ الدولة۔والفينا اراداتها مبنية احسانات دیکھے اور ہم نے اس کے ارادوں کو على حسن النية۔فهمنا انه لا نیک نیتی پر مبنی پایا تو ہم نے جان لیا کہ یہ مناسب ينبغي ان نـوذيها في قومها بعد بات نہیں کہ ہم اس حکومت کو اس احسان کے بعد هذه الصنيعة۔ولا يجوزان اس کی قوم کے بارے میں ایذا دیں اور یہ جائز نطلب منها ما ينصبها لبعض نہیں کہ ہم اس (حکومت) سے بعض مصالح مصالح السلطنة۔بل الواجب ان سلطنت کے خلاف مطالبہ کریں۔بلکہ واجب یہ نجادل القسيسين بالحكمة ہے کہ ہم پادریوں سے حکمت اور موعظہ حسنہ کے والموعظة الحسنة و ندفع ساتھ بحث کریں اور ہم اس سے دفاع کریں ۴۰۲